جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

بھارتی ٹماٹر نہ منگوانے پر پاکستان کو صرف پانچ ماہ میں کتنے ارب روپے کی بچت ہوئی؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی)صوبائی وزیرخوراک بلال یاسین نے کہا ہے کہ بھارت سے سبزیوں کی درآمد پر پابندی سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑا بلکہ مقامی کاشتکار کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوئی ہے، صرف بھارتی ٹماٹر نہ منگوانے سے جولائی تا نومبر پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں 10ارب روپے کی بچت ہوئی اور اس بار سندھ میں ربیع سیزن میں بھی ٹماٹر کاشت کیا گیا ہے۔ وہ سول سیکرٹریٹ میں کابینہ کمیٹی برائے پرائس کنٹرول کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے

جس میں ایم پی اے عبدالرؤف مغل، سیکرٹری زراعت، ڈی جی زراعت اور دیگر متعلقہ ارکان نے شرکت کی۔ اس موقع پر اہم سبزیوں، پھلوں اور دالوں کی قیمتوں کا تفصیلی تقابلی جائزہ لیا گیا۔وزیر خوراک نے بریفنگ کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سے کم معیار کی سبزیاں نہ منگوانے کی پالیسی کے ملکی زراعت پر اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ماضی میں بھارت خود اچھے معیار کا آلو استعمال کرکے پاکستان کو چھوٹے سائز اور سیاہ رنگ کا آلو برآمد کردیتا تھا حالانکہ پاکستان کے آلو اور پیاز کا معیار بہت اچھا اور پوری دنیا میں اس کی مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے سپلائی بڑھنے سے پنجاب میں ٹماٹر کی قیمتیں معمول پر آ رہی ہیں۔ گزشتہ برس اسی مہینے میں ٹماٹر کا ہول سیل ریٹ 58روپے کلو تھا جبکہ اس وقت نرخ 59روپے ہے۔ ایم پی اے عبدالرؤف مغل کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کمیٹی نے محکمہ زراعت کو سفارش کی کہ وہ کاشتکاروں کو ترغیب دے کہ صرف گندم کی کاشت پر زور دینے کی بجائے خوردنی تیل والی فصلیں بھی کاشت کریں تاکہ خوردنی تیل کی مد میں خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچایا جاسکے۔بلال یاسین نے پیاز کی قیمت میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ وہ تھوک اور پرچون نرخوں میں زیادہ فرق نہ آنے دیں اور اس ضمن میں پرائس مجسٹریٹس کو متحرک کیا جائے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…