جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایکنک کا مخفف کیا ہے ،چیف جسٹس کے سوا ل پر چیف سیکرٹری سندھ نے کیا جواب دیا،جان کر آپ دنگ رہ جائینگے

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی کی انڈسٹریز سمیت میونسپل ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کیس کی سماعت کے دوران چیف سیکرٹری سندھ نے عدالت کا شکریہ اداکرتے ہوئے اپنینااہلی کا اعتراف بھی کیا۔منگل کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی کی انڈسٹریز سمیت میونسپل ویسٹ

ٹریٹمنٹ پلانٹ کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیربھنبھرو نے عدالت کو بتایا کہ فنڈز پر تنازعہ تھا جو ایکنک کی اجلاس میں حل کر لیا ہے، ٹریٹمنٹ پلانٹ کے منصوبے میں دوتہائی حکومت سندھ اور ایک تہائی وفاقی حکومت کی فنڈنگ ہوگی۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کے خیال میں کیا معاملہ ختم ہوگیا ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اتنا بڑا معاملہ لوگوں کی زندگی سے جڑا ہوا ہے آپ کہ رہے ہیں سب ٹھیک ہو گیا ہے۔چیف جسٹس نے کہاایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ کیوں چیف منسٹر کو پھنسا رہے ہیں آپ سیدھا موقف اختیار کریں ۔عدالت نے استفسار کیا کہ یہ ایکنک کس چیز کا مخفف ہے تو چیف سیکرٹری جواب نہ دے سکے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سے منصوبے کامکمل شیڈول طلب کر لیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ لوگوں کی جان و مال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگاہم23 دسمبر تک پھر کراچی آئیںگے۔ ان منصوبوں پر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔چیف سیکرٹری سندھ نے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی وجہ سے یہ کام آگے بڑھ رہے ہیں ساتھ ہی ہم اپنی نااہلی پر شرمندہ بھی ہیں ۔عدالت حکومت سندھ منصوبوں کے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کردی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…