اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

مذہبی جماعت اور حکومت کے درمیان معاہدہ ، اسلام آبادہائی کورٹ نے توثیق کرانے کے دو آپشنز دے دیئے،بڑا حکم جاری

datetime 5  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آبادہائی کورٹ نے مذہبی جماعت اور حکومت کے درمیان معاہدہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا پھر وفاقی کابینہ میں پیش کرکے آئین اور قانون کی کسوٹی پر پرکھ کر توثیق کرانے کے دو آپشنز دے دیئے ،جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کیسے ختم کیے جاسکتے ہیں، مجروح میں ہوا، زخمی میں ہوا، ریاست کون ہوتی ہے فیصلہ کرنے والی دوسرے آپشن میں

عدالت نے تجویز کیا کہ معاہدے اور ثالثی کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھ کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے دوسری تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہم اس معاملے کو خود دیکھیں گے سوموار کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کرتے ہوئے مذہبی جماعت اور حکومت کے درمیان معاہدے میں فوج کی ثالثی پر قانونی معاونت کیلئے وقت درکار ہے، تیاری کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کروں گا، حکمنامے میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ سیکرٹری دفاع اس معاملے کی تحقیق کریں گے کہ کس طرح ایک متنازع معاہدے میں آرمی چیف کا نام استعمال ہوا۔ اور اس ذمہ دار شخص کی نشاندہی کی جائے گی۔جس کی وجہ سے ادارے کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے دوران سماعت آئی بی کی طرف سے پولیس آپریشن کی ناکامی پر سربمہر رپورٹ پیش کی گئی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ دھرنا قائدین اور منتظمین خود توہین رسالت کے مرتکب ہوئے، دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی ایک شق بھی قانون کے مطابق نہیں ہے، دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کیسے ختم کیے جاسکتے ہیں مجروح میں ہوا، زخمی میں ہوا، ریاست کون ہوتی ہے فیصلہ کرنے والی؟ عدالت اس معاہدے کی توثیق نہیں کرسکتی، جب تک پولیس والوں کی تسلی نہیں کی جاتی مقدمات ختم نہیں ہونے دیں گے، عدالت نے کیس کی سماعت 12 جنوری ملتوی کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…