پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پیمرا کا ٹی وی چینلز کو ایک بار پھر انتباہ، نئی ہدایات جاری کر دیں

datetime 1  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا ) نے ایک ایڈوائس کے ذریعے سندھی ٹی وی چینلوں کو الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق 2015کی خلاف ورزی سے اجتناب برتنے اور ڈراموں و دیگر پروگراموں کے موضوعات اور مواد کے انتخاب میں بہتری لانے کی ہدایت کی ہے۔

جمعرات کو جاری ایڈوائس میں ریگو لیٹر نے سندھی ٹی وی لائسنس ہولڈرز کو سندھیوں کو بطور متشدد اور انتہا پسند قوم دکھانے اور تشدد واسلحہ کے استعمال پر مبنی موضوعات کو فروغ دینے سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے ڈرامے یا پروگرام کو نشر کرنا الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015کی صریحاً خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ عوام الناس کی بڑی تعدا د نے ایسے تمام سندھی ڈرامے اور پروگرامزدکھائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ریگولیٹر سے شکایت کی ہے کہ اس عمل کے ذریعے سندھی ٹی وی چینلز ایک امن پسند قوم کے امیج کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیمرا نے سندھی ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015،ناظرین کے تحفظات اور معاشرے کی سماجی اور ثقافتی اقدار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے پروگراموں اور ڈراموں کے موضوعات پر نظرِ ثانی کریں اور موضوعات کے انتخاب اور مواد میں بہتری لانے کے لئے الیکٹرانک میڈیا کوڈ�آف کنڈکٹ 2015کی شق 7کے مطابق ادارہ جاتی نگران کمیٹوں کے قیام کو یقینی بنائیں اور ان کی تفصیلات 15روز میں ریگولیٹر کو مہیا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…