جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر عاصم نے استعفیٰ دیدیا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر ڈاکٹر عاصم حسین نے پارٹی عہدے پر کام کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ڈاکٹر عاصم نے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے رابطہ کیا اور پارٹی عہدے پر کام کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ بیرون ملک سرجری کی وجہ سے عہدے پرکام جاری نہیں رکھ سکتا لیکن پارٹی میں کارکن کے طور پر کام کرتا رہوں گا۔ڈاکٹر عاصم پیپلزپارٹی کے سابق دور حکومت میں مشیر پیٹرولیم رہ چکے ہیں۔

انہیں رینجرز نے دہشتگردوں کے علاج و معالجے کے الزام میں گرفتار بھی کیا تھا، جبکہ نیب نے ان کے خلاف کرپشن کا ریفرنس کیا تھا۔ کیسز میں ضمانت کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ڈاکٹر عاصم کو پی پی کراچی ڈویژن کا صدر مقرر کیا تھا۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ڈاکٹر عاصم حسین کوان کی خواہش پرکراچی ڈویژن کے صدر کے عہدے سے سبکدوش کردیاہے۔بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ ڈاکٹر عاصم کی خدمات کو سراہتے ہیں۔ علاج کے بعدڈاکٹر عاصم کو نئی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔دریں اثناء ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔ خط کے ساتھ ڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے۔ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل کی جانب سے وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین نے علاج کے لیے 21 نومبر کو برطانیہ جانا ہے۔ سپریم کورٹ ڈاکٹر عاصم حسین کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے چکی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔ خط کے ساتھ ڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے گزشتہ روز ڈاکٹر عاصم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…