پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

میرے خلاف سازش کرنے والے لوگ کون ہیں؟ نوازشریف شدیدمشتعل،نام زبان پر لے آئے

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہاہے کہ احتساب کو کہیں اور سے کنٹرول کیا جارہا ہے، ہمیں سزا دی نہیں ٗ دلوائی جارہی ہے ٗ عدالتی فیصلے میں ایسے ریمارکس تھے جیسے ہمارے سیاسی مخالفین دیتے ہیں ٗعدالتوں کا دہرا معیار جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

بدھ کو احتساب عدالت میں پیشی کے بعد وہاں موجود میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ عدالتوں کا دہرا معیار جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔ نواز شریف نے کہاکہ احتساب کو کہیں اور سے کنٹرول کیا جارہا ہے اور جو قصور ہم نے نہیں کیا اس کا بھی ہم سیانتقام لیا جارہا ہے۔ عدالتی فیصلے میں ایسا پیغام تھا کہ نواز شریف کو ہر قیمت پر سزا دینی ہے تاہم سزا دی نہیں جارہی بلکہ دلوائی جارہی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ عدالت میں ہم سے ہمارے سیاسی مخالفین جیسے سوال پوچھے گئے، عدالتی فیصلے میں ایسے ریمارکس تھے جیسے ہمارے سیاسی مخالفین دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی ضمانت منظور ہونے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ میرے مقدمے میں کچھ اور جبکہ دوسروں کے مقدموں میں اور ضابطے ہیں ٗہم اس دہرے معیار کے خاتمے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، یہ احتساب نہیں انتقام ہے اور اس کے باوجود بھی ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ 1999ء میں بھی طیارہ ہائی جیکنگ کے جھوٹے کیس میں انہیں سزا دلوائی گئی تھی، اس وقت بھی مجھے پھنسایا گیا اور آج بھی وہی معاملہ دہرایا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…