جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قندیل بلوچ قتل کیس، پولی گرافک ٹیسٹ کے دوران مفتی عبدالقوی کیا کرتے رہے؟نتیجہ کیا نکلا؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ملتان (این این آئی)ملتان کی ڈسٹرکٹ عدالت نے قندیل بلوچ قتل کیس میں گرفتار ملزم مفتی عبدالقوی کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔ملتان نیو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امیر محمد خان کی عدالت میں مفتی عبدالقوی کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران مفتی عبدالقوی کے وکیل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کا بھائی اسلم شاہین کیس میں نامزد ملزم ہے،

لیکن اس کی ضمانت ہوگئی ہے جبکہ مفتی عبدالقوی پر قندیل کے بھائیوں کو اکسانے کا الزام ہے اور سعودیہ سے آنے والی نامعلوم کال پر مفتی عبدالقوی کو ملزم ٹھہرایا جا رہا ہے۔وکیل کا کہنا تھا کہ پولی گرافکس رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مفتی عبدالقوی کی ضمانت دو لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔ گذشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ پرویز خان نے مفتی عبدالقوی کو 7 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا اس سے قبل گذشتہ ماہ کے آخر میں مفتی قوی کا پولی گرافک ٹیسٹ کیا گیا، جس کے دوران ان سے قندیل بلوچ قتل کیس اور مقتولہ کے بھائی سے تعلقات سمیت مختلف سوالات کیے گئے تاہم پنجاب فارنزک سائنس اتھارٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مفتی عبدالقوی نے پولی گرافی ٹیسٹ میں تعاون نہیں کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا، مقدمے میں مقتولہ کے کزن حق نواز کو بھی نامزد کیا گیا، یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔مفتی عبدالقوی، قندیل بلوچ کے ہمراہ اس وقت منظرعام پر آئے تھے جب گزشتہ برس رمضان المبارک کے دوران ماڈل نے چند سیلفیز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔بعدازاں قندیل بلوچ کے ساتھ متنازع سیلفیز کو جواز بناکر ان کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 کے تحت مقتولہ کے بھائی کو اکسانے کے الزام میں مقدمے میں نامزد کردیا گیا تھا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…