جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ پاکستان کیساتھ یہ سب کچھ بھی کرسکتا ہے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا،سلسلہ پچھلے 6ماہ سے جاری

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) سینٹ کی قومی اسمبلی برائے پیداوار کے دفاعی چیئرمین جنرل(ر) عبدالقیوم کو دفاعی پیداوار کے حکام نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو رات کی تاریکی میں دیکھنے والے آلات فراہم نہیں کئے جا رہے ۔ امریکہ کو خطرہ ہے کہ یہ آلات دہشتگرد کے ہاتھ لگ گئے

تو امریکہ کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔جس سے بڑی تباہی پیدا ہو سکتی چھ ماہ سے امریکہ ٹاک مٹول سے کام لے رہا تھا وہ اس حوالے سے مکمل یقین دہانی چاہتا ہے کہ یہ آلات دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگیں ۔ گزشتہ روز سینٹ کی قومی اسمبلی برائے دفاع و دفاعی پیداوار کا اہم اجلاس کمیٹی کے چیئرمین جنرل(ر) عبدالقیوم کی صدارت میں ہوا جس میں کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی ۔ کمیٹی کو پاک فضائیہ کی تیاریوں اور جنگی جہازوں کی پرزہ جات کی ملکی سطح پر ہونے والی تیاری پر بریفنگ دی گئی ۔ دفاع سے متعلق کمیٹی کے حکام نے بتایا کہ پاکستان فضائیہ کے لئے مرمت کی غرض سے اعلی کوالٹی کے پرزہ جات تیار کئے جا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ مستقبل کی بہتر حکمت عملی کے لئے اور پاکستان کو جنگی جارحیت سے بچانے کے لئے 25 سال کاایک ماسٹر پلان بنا رہے ہیں جس میں جدید اسلحہ کی ضرورت اور تیاری کے علاوہ مرمت کے حوالے سے جدید خطوط پر کام ہو رہا ہے ۔کمیٹی کے چیئرمین کے سوال کے جواب میں دفاع سے متعلقہ حکام نے بتایا کہ رات کو دشمن کے خلاف آپریشن کے لئے جدید دوربینوں کا استعمال کیا جاتا ہے کہ امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ رات کی تاریکی میں دیکھنے والے جدید آلات فراہم کئے جائیں گے ۔ مگر تاحال حکومت پاکستان کو وہ فراہم نہیں کئے گئے امریکہ سمھجتا ہے

کہ یہ آلات اگر دہشتگردوں کے ہاتھ لگ گئے تو ان کا غلط استعمال ہو سکتا ہے ۔ وزارت دفاعی پیداوار کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے جدید ٹرک بنا رہے ہیں جو سی پیک کی ضروریات کو پورا کر سکے ۔ ایسی جیپیں بھی بنا رہے ہیں جو معیاری اور سستی ہوں ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…