اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی۔ منگل کو سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے جسٹس شوکت صدیقی کے کیس کی سماعت کی تو ان کے وکیل کی جانب سے جوڈیشل

کونسل کی کاروائی روکنے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ٹکڑوں کی بجائے کیس کو مکمل سننا چاہتے ہیں، یہ ایسا مقدمہ نہیں جس میں حکم امتناع دے کر مقدمہ دفن کر دیا جائے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہم مقدمے کو لٹکانے کی بجائے جلد سن کر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے، افتخار چوہدری کیس میں بھی قانون طے نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاناما میں تحریک انصاف کی درخواست کا نمبر بھی 29 تھا، یاد رکھیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کا نمبر بھی 29 ہے، ہمارے اشارے کو سمجھیں حکم امتناعی کی ضرورت نہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہمارے لیے بطور ادارہ بھی ضروری ہے کہ کیس کا فیصلہ کریں، جب نائب قاصد کے خلاف انکوائری ہو تو آرٹیکل 10 اے کا نفاذ ہوتا ہے، نائب قاصد اور جج دونوں کے خلاف ایک ہی قانون کے تحت کارروائی ہو گی، ہم آزاد عدلیہ ہیں، کیس میں ایک سو ایک سوالات ایسے ہیں جن کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت (آج) بدھ تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی پر اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت انکروچمنٹ کا بھی الزام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…