جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی۔ منگل کو سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے جسٹس شوکت صدیقی کے کیس کی سماعت کی تو ان کے وکیل کی جانب سے جوڈیشل

کونسل کی کاروائی روکنے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ٹکڑوں کی بجائے کیس کو مکمل سننا چاہتے ہیں، یہ ایسا مقدمہ نہیں جس میں حکم امتناع دے کر مقدمہ دفن کر دیا جائے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہم مقدمے کو لٹکانے کی بجائے جلد سن کر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے، افتخار چوہدری کیس میں بھی قانون طے نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاناما میں تحریک انصاف کی درخواست کا نمبر بھی 29 تھا، یاد رکھیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کا نمبر بھی 29 ہے، ہمارے اشارے کو سمجھیں حکم امتناعی کی ضرورت نہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہمارے لیے بطور ادارہ بھی ضروری ہے کہ کیس کا فیصلہ کریں، جب نائب قاصد کے خلاف انکوائری ہو تو آرٹیکل 10 اے کا نفاذ ہوتا ہے، نائب قاصد اور جج دونوں کے خلاف ایک ہی قانون کے تحت کارروائی ہو گی، ہم آزاد عدلیہ ہیں، کیس میں ایک سو ایک سوالات ایسے ہیں جن کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت (آج) بدھ تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی پر اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت انکروچمنٹ کا بھی الزام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…