اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

اب بھی جبری طور پر لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے، لاپتہ افراد کیس میں سپریم کورٹ نے حراستی مراکز کی تفصیلات طلب کر لیں

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں تمام حراستی مراکز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو مطمئن کیا جائے اور بتایا جائے کہ حراستی مراکز میں کون کون سے افراد موجود ہیں ۔جسٹس اعجازافضل خان کی سربراہی میں

دو رکنی بننچ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔سماعت کے موقع پر لاپتہ افراد کی وکیل آمنہ مسعود جنجوعہ نے موقف اپایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود آج بھی جبری طورپر لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے جس کے باعث اس وقت ملک بھر میں لاپتہ افراد کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں۔جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بغیر مقدمات درج کئے ان افراد کو کیوں زیرحراست مراکز میں رکھاگیا ہے ۔یہ بھی بتایا جائے کہ زیر حراست افراد کا ٹرائل کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ عدالت کو مطمئن کیا جائے اور بتایا جائے کہ حراستی مراکز میں کون کون سے افراد موجود ہیں اور ان پر عائد مقدمات کی تفصیلات آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیں جائیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام حراستی مراکز میں قید افراد سے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں ۔بعد ازاں کیس کی سماعت 13نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…