جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

قتل کیس میں سزائے موت کا قیدی 12 سال بعد کس طرح ڈرامائی طور پر بری ہو گیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) قتل کیس میں سزائے موت کے قیدی کو سپریم کورٹ نے 12سال بعد بری کردیا‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سچی گواہی کے بغیر نظام عدل نہیں چل سکتا‘ جھوٹی گواہی دینا اصل ظلم ہے‘ پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے مگر جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ منگل کو قتل کیس میں سزائے موت کے قیدی کو سپریم کورٹ نے بارہ سال بعد بری کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کیس

ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے مگر جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ سچی گواہی کے بغیر نظام عدل نہیں چل سکتا۔ جھوٹی گواہی دینا اصل ظلم ہے ملزم محمد زمان کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی اور ہائی کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا ملزم پر 2005 میں غلام صابر کو گوجرانوالہ میں قتل کرنے کا الزام تھا۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…