منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قتل کیس میں سزائے موت کا قیدی 12 سال بعد کس طرح ڈرامائی طور پر بری ہو گیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) قتل کیس میں سزائے موت کے قیدی کو سپریم کورٹ نے 12سال بعد بری کردیا‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سچی گواہی کے بغیر نظام عدل نہیں چل سکتا‘ جھوٹی گواہی دینا اصل ظلم ہے‘ پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے مگر جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ منگل کو قتل کیس میں سزائے موت کے قیدی کو سپریم کورٹ نے بارہ سال بعد بری کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کیس

ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے مگر جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ سچی گواہی کے بغیر نظام عدل نہیں چل سکتا۔ جھوٹی گواہی دینا اصل ظلم ہے ملزم محمد زمان کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی اور ہائی کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا ملزم پر 2005 میں غلام صابر کو گوجرانوالہ میں قتل کرنے کا الزام تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…