ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

قتل کیس میں سزائے موت کا قیدی 12 سال بعد کس طرح ڈرامائی طور پر بری ہو گیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) قتل کیس میں سزائے موت کے قیدی کو سپریم کورٹ نے 12سال بعد بری کردیا‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سچی گواہی کے بغیر نظام عدل نہیں چل سکتا‘ جھوٹی گواہی دینا اصل ظلم ہے‘ پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے مگر جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ منگل کو قتل کیس میں سزائے موت کے قیدی کو سپریم کورٹ نے بارہ سال بعد بری کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کیس

ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے مگر جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ سچی گواہی کے بغیر نظام عدل نہیں چل سکتا۔ جھوٹی گواہی دینا اصل ظلم ہے ملزم محمد زمان کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی اور ہائی کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا ملزم پر 2005 میں غلام صابر کو گوجرانوالہ میں قتل کرنے کا الزام تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…