پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

چوبیس گھنٹوں میں پاکستانی علاقوں میں تین ڈرون حملے ،حکومت اور فوج کیا کررہی ہے؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

آج لاہور میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا‘ آج رائے ونڈ میں شریف فیملی کے فارم ہاﺅس کے انتہائی قریب ایک مزدور کی بیوی نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سامنے سڑک پر بچی کو جنم دے دیا‘ ہسپتال میں اس وقت ڈاکٹر موجود نہیں تھا چنانچہ خاتون اذیت سے گزرنے پر مجبور ہو گئی‘ یہ ہسپتال وزیراعلیٰ پنجاب نے 70 کروڑ روپے سے تعمیر کیا تھا‘اس میں 60بیڈز ہیںلیکن آپ اس کی حالت کا اندازہ اس ایک واقعے سے لگا لیجئے۔

پنجاب اور کے پی کے کی حکومتیں پچھلے چار برسوں سے معرکے مارنے کے دعوے کر رہی ہیں‘ میاں شہباز شریف ہمیشہ انفرا سٹرکچر اور اچھی انتظامیہ کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ عمران خان اپنے صوبے میں پولیس اور تعلیم کو نقطہ کمال پر پہنچانے کا پرائیڈ لیتے ہیں۔۔ لیکن آپ دونوں کی حالت دیکھ لیجئے‘ پنجاب میں وزیراعلیٰ کے گھر کے سامنے سڑک پر بچی پیدا ہو گئی جبکہ عمران خان کے پی کے کے اساتذہ کو اپنے گھر کے سامنے چھوڑ کر آج مالاکنڈ یونیورسٹی تشریف لے گئے‘ کے پی کے کے تمام سکول اور کالج سات دن سے بند پڑے ہیں‘ ٹیچرز ہڑتال پر ہیں اور یہ بنی گالہ میں عمران خان کے گیٹ پر بیٹھے ہیں اور خان صاحب آمدورفت کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں‘ آج لاہور میں پاکستان کسان اتحاد نے بھی ملتان روڈ پر دھرنا دے دیا‘ ٹریفک سارا دن معطل رہی‘ادھر اسلام آباد میں بھی پمز ہسپتال 16 دن اور قائداعظم یونیورسٹی 15 دن سے بند پڑی ہے‘ پمز میں دو ہزار آپریشن کینسل ہوئے جبکہ دو خواتین انتقال کر گئیں‘ یہ ہے ہماری مینجمنٹ‘ یوں محسوس ہوتا ہے حکومت بلکہ حکومتوں کی رٹ کمزور پڑ چکی ہے‘ پمز ہسپتال اور قائداعظم یونیورسٹی تک چلانا بھی وفاقی حکومت کے بس کی بات نہیں رہی‘ ادھر کے پی کے حکومت سکول اور کالج کھلوانے اور پنجاب حکومت عوام کو ہسپتالوں میں بنیادی سہولتیں دینے میں ناکام ہو چکی ہیں‘ کیا ہم ایک فیلڈ سٹیٹ بنتے جا رہے ہیںاگر نہیں تو پھر ہم ڈرون حملوں کی نئی لہر کو کہاں رکھیں گے‘

امریکا نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں پاکستانی علاقوں میں تین ڈرون حملے کئے‘ان حملوں میں 31 لوگ ہلاک ہوئے لیکن پاکستان کے تمام ادارے خاموش بیٹھے ہیں‘ فوج شاید حکومت کی طرف سے چپو چلنے کا انتظار کر رہی ہے اور حکومت شاید ڈرون حملوں کو فوج کا ایشو سمجھ کر خاموش بیٹھی ہے۔یہ صورتحال کب تک چلتی رہے گی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…