ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

کرم ایجنسی میں شہید ہونے والے کیپٹن حسنین کی تدفین والد نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران رہ گئے!!

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

ننکانہ صاحب(مانیٹرنگ ڈیسک) کرم ایجنسی دھماکے میں شہید ہونے والے کیپٹن حسنین کو ننکانہ صاحب میں سپردخاک کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق کرم ایجنسی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں شہید کیپٹن حسنین کا جسد خاکی ننکانہ صاحب پہنچا تو پورا علاقہ امڈ آیا، شہید کے جنازے پر پھول نچھاور کیے گئے، نماز جنازہ

میں سیکڑوں افراد شریک ہوئے ، جس کے بعد شہید کیپٹن حسنین کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ۔آرمی چیف اور صدر مملکت کی طرف سے قبر پر پھول چڑھائے گئے۔شہید کے والد نے بیٹے کی شہادت پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ 100 بیٹے بھی ہوتے تو تووہ بھی وطن پر قربان کرتا، شہید کا والد بننے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔جوان بیٹے کی شہادت پرماں کی آنکھیں نم تھیں، بھائیوں نے کہا حسنین ان کے لیے ہمیشہ زندہ رہیگا۔یاد رہے گذشتہ روز کرم ایجنسی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں کیپٹن سمیت 4 سیکورٹی اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے تھے، شہید اہلکار غیرملکیوں کے اغواکاروں کی تلاش میں مصروف تھے کہ دھماکا ہوگیا۔دھماکے میں شہید ہونے والوں میں کیپٹن حسنین،سپاہی سعید باز،سپاہی قادراورسپاہی جمعہ خان شامل تھے جبکہ سپاہی ظاہر،نائیک انور اورلانس نائیک شیر افضل زخمی ہوئے ۔خیال رہے کہ دوروز قبل پاک فوج نےانٹیلی جنس بنیاد پرکامیاب آپریشن کے دوران کرم ایجنسی سے کینیڈین امریکن خاندان کوبازیاب کرایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…