منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیر کا حل،چین نے زبردست اعلان کردیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے زور دیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پر امن مذاکرات کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے، مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ہے، چین دونوں ممالک مابین کشیدگی نہیں چاہتا، مسئلہ کشمیر کا حل دونوں ممالک سمیت خطے کے امن و استحکام کیلئے اہم ہے، چین اور بین الاقوامی برادری کشمیر کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں،دونوں ممالک مابین کوئی تنازعہ پورے خطے میں امن کے لئے خطرناک ہوگا،

بھارت کو چینی مفادات کا احترام کرنا چاہئے،چین افغانستان میں تخلیقی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے،سی پی ای سی چین، پاکستان اور پورے خطے کے لئے نئے ترقیاتی مواقع لائے گا، سی پیک کشمیر کے مسئلے پر چین کی حیثیت کو متاثر نہیں کرے گا ۔ چین کے غیر ملکی معاملات کے مشیر یاؤ وین نے گذشتہ روز نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پر امن مذاکرات کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک باہمی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اس مسئلہ کا بہتر حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ چین دونوں ممالک مابین کشیدگی نہیں چاہتا ہے۔ نہ ہی دونوں ممالک کی کشیدگی چین کے لئے فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل دونوں ممالک سمیت خطے کے امن و استحکام کیلئے اہم ہے۔ جب تک یہ مسئلہ دونوں ممالک مابین حل نہیں ہو گا خطے۷ کو خطرات لاحق رہے گے۔ چین اور بین الاقوامی برادری کشمیر کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے ل؛ئے ہم اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ دونوں ممالک رضامند ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ پاک بھارت باہمی طور پر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطھارت اور چین مابین بھی اکثر اوقات نت نئے تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں لیکن اختلافات کے باووجود انہیں پر امن طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو چینی مفادات کا احترام کرنا چاہئے۔بھارت کو چین کی ترقی کی تعریف کرنی چاہئے ۔افغان مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے یاہو وین نے کہا کہ چین نے مذاکرات کے میز پر افغان حکومت اور طالبان کو لانے کے لئے اپنا حصہ ادا کر رہا ہے ۔سیاسی مذاکرات مسئلہ کا واحد حل ہے. انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان سے منسلک متعلقہ جماعتیں مذاکرات کے لئے مل کر بیٹھ جائیں گیں۔چین افغانستان میں تخلیقی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ہمیں یقین ہے کہ سی پی ای سی چین، پاکستان اور پورے خطے کے لئے نئے ترقیاتی مواقع لائے گا۔

امید ہے کہ بھارت بھی اس اہم مقصد میں چین کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ یہ ضروری ہے کہ اس منصوبے کا حصہ بھی بھارت بن جائے ۔دراصل بھارت نے سی سی ای پی پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ بھارت کا خیال ہے کہ یہ ایک ایسے علاقہ سے گزرتا ہے جس میں بھارت کا دعوی ہوتا ہے لیکن سی سی ای اقتصادی معاون کے بارے میں ہے اور ایک اہم منصوبے چین اور پاکستان کے درمیان سڑک ہے جو کرکرم ہائی وے کے نام سے ہے۔یہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک راستہ راستہ ہے۔ یہ 1970 کے دہائی میں مکمل ہو چکا ہے اور اب ہم اس سڑک کو زیادہ آسان نقل و حمل کے لئے اپ گریڈ کر رہے ہیں تاکہ ہم ہندوستان میں اپنے دوستوں کو بتا رکھیں کہ BRI اور CPEC علاقائی دعوی کے بارے میں نہیں ہے اور یہ کشمیر کے مسئلے پر چین کی حیثیت کو متاثر نہیں کرے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…