منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کا 66 واں یومِ وفات عقیدت احترام سے منایا گیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

؎اسلام آباد (آئی این پی ) پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کا 66 واں یومِ وفات عقیدت احترام سے منایا گیا ۔نوابزادہ لیاقت علی خان کا شمار قوم کے ان عظیم رہنماں اور محسنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا۔ لیاقت علی خان مسلم رہنما ئو

ں کی ان نمائندہ شخصیات میں شامل ہیں جو برطانوی راج کے خاتمے اور مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کی جدوجہد میں پیش پیش رہے۔ مشرقی پنجاب کے زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولنے والے لیاقت علی خان نے علی گڑھ سے 1918 میں گریجویشن مکمل کی۔ 1921 میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے 1923 میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔سادہ طبیعت کے مالک نوابزادہ لیاقت علی خان 1926 سے 1940 تک یوپی کی مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن بھی رہے۔جدو جہد آزادی میں قائداعظم کے شانہ بشانہ چلنے والے شہید ملت لیاقت علی خان کو بانی پاکستان اپنا دست راست کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ قائداعظم کی وفات کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان نے مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ اور قیادت کے خلل کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ بطور پہلے وزیراعظم انہوں نے پاکستان کی خدمت کے لئے خود کو وقف کردیا ۔

واضح رہے کہ لیاقت علی خان کو 16اکتوبر 1951 کو کمپنی باغ(موجودہ لیاقت باغ)راولپنڈی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا تھا۔لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے، قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور

واقعات کا تانا بانا شکوک وشبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں اور آج تک اصل قاتلوں کو بے نقاب نہیں کیا جاسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…