منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی کامقصد کیاتھا؟افسوسناک انکشاف ،تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 13  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت میں سماعت کے موقع پر پیش آنے والے واقعہ پر کہا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی آڑ میں نیب پراسیکیوشن ٹیم پرحملے کی کوشش کی گئی، نیب نے رپورٹ ہیڈ کوارٹر کو پیش کردی۔ جمعہ کو مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جس کے باعث جوڈیشل کمپلیکس

کے باہر ایک بار پھر بد نظمی دیکھنے میں آئی۔اس دوران ایک وکلاء نے پولیس اہلکارکو تھپڑ مارے جس پر پولیس نے وکلا پر ڈنڈے برسادیئے جس سے ایک وکیل کا سر پھٹ گیا جس کے باعث صورتحال مزید بگڑ کر کمرہ عدالت تک جا پہنچی۔احتساب عدالت میں وکلا کی ہلڑ بازی کے باعث جج محمد بشیر نے کارورائی کیے بغیر ہی سماعت ملتوی کردی جس کے باعث نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔کیس کی سماعت ملتوی ہونے کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آئی جی اسلام آباد کو وکیل پرتشدد کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیکر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔نیب پراسیکیوشن ٹیم نے عدالت میں پیش آنے والے واقعہ سے ہیڈ کوارٹرز کو آگاہ کر دیا ہے۔نیب کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پراسیکیوشن ٹیم کو ڈائس سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ٗپراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ سردار مظفر کے نہ ہٹنے پر دھکے دیئے گئے اور ہنگامہ آرائی کی آڑ میں نیب پراسیکیوشن ٹیم پرحملے کی کوشش کی گئی۔واضح رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دائر تین ریفرنسز پر میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر فرد جرم عائد کی جانی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…