اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

قادیانیوں کے بارے میں ریمارکس پر معروف صحافی کا شدید ردعمل، کیپٹن (ر) صفدر کے سسر نواز شریف نے ’’ڈاکٹر عبدالسلام‘‘ کیلئے کیا کیا تھا؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قادیانیوں کے بارے ریمارکس پر معروف صحافی وسعت اللہ کا ردعمل، تفصیلات کے مطابق معروف صحافی وسعت اللہ نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز فزکس پر ملا، کسی مذہبی تبلیغ پر نہیں ملا، فزکس ایک سیکولر مضمون ہے اور فزکس کی دنیا میں 99 فیصد لوگ کفار ہیں، انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے بچے جب اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گئے ہوں گے

تو وہاں ان کے ٹیچر کتنے مسلمان ہوں گے اور اگر وہ مسلمان نہیں تو آپ اپنے بچوں کو کیوں پڑھوا رہے ہیں آپ کو تو خدشہ ہے کہ وہ بگڑ سکتے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اس انسٹی ٹیوٹ کے نام کی منظوری ان کے سسر نے دسمبر 2016 میں دی، نہ صرف نام کی منظوری دی بلکہ اس انسٹی ٹیوٹ کے نام پر پانچ پی ایچ ڈی سکالر شپس بھی منظور کیں۔ سینئر صحافی نے کہا کہ اس کے فوراً بعد پہلا ردعمل اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا شیرانی کا آیا تھا، انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے، اب معاملہ یہ ہے کہ تاریخ سے مثالیں دوں تو بڑا عجیب سا لگے گا، انہوں نے کہا کہ میں جانا چاہتا ہوں چودہ سو سال پہلے حضورؐ کے دور میں غزوہ بدر میں کفار کو شکست ہوتی ہے اور کافی گرفتار بھی ہو جاتے ہیں، تو ان گرفتار کفار کو کہا گیا کہ آپ میں ہر ایک دس دس مسلمان بچے پڑھائے تو آپ کو رہا کر دیا جائے گا، اب کفار مسلمانوں کے بچے پڑھا رہے ہیں تو اس وقت یہ خدشہ تو ہونا چاہیے تھا کہ معصوم ذہنوں کو آلودہ کر سکتے تھے اور کفار کو اسلام کی الف ب بھی نہیں پتہ تھی تو ظاہر ہے کہ وہ دنیاوی تعلیم پڑھا رہے ہوں گے اسلامی نہیں، سینئر صحافی نے کہا کہ کم از کم ڈاکٹر عبدالسلام کا مسلک احمدی سہی یا قادیانی سہی، ان کی وجہ شہرت ماہر طبیعات کے طور پر ہے، نوبل پرائز انہیں قادیانی ہونے کی وجہ سے نہیں ملا، انہوں نے تھیوری پیش کی،

اس کی بنیاد پر نوبل انعام دیا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ آدمی پوری زندگی کوشش کرتا رہا، ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنا انسٹی ٹیوٹ اٹلی میں بنایا، اس انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستانی طلبہ کے لیے مخصوص کوٹہ رکھا تاکہ وہ فزکس کی تعلیم حاصل کر سکیں، نتھیاگلی میں سمر کالج جو ہے وہ اس کو باقاعدگی سے آرگنائز کرتے تھے، ماہرین طبیعات کی جو موجودہ نسل ہے ان میں سے بیشتر ڈاکٹر عبدالسلام کی شاگرد ہے، ان کے شاگرد ہونے کی وجہ سے ان کی بھی چھان بین ہونی چاہیے کہ ان کے عقائد بھی خراب تو نہیں ہوئے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…