منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کئی لوگوں کو قتل کرنے کے بعد تیزاب سے لاشیں مسخ کیں، عزیر بلوچ کا اعتراف

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی )لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے لوگوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں مسخ کرنے کا اعتراف کر تے ہوئے کہا ہے کہ غازی خان، شیرافضل خان اور شیراز کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو تیزاب کے ذریعے مسخ کیا، رحمان ڈکیٹ کی ہلاکت کے بعد پیپلزامن کمیٹی کے نام پر مسلح دہشت گردی گروپ بنایا ،اپنے مذموم مقاصد کے لئے 2008 سے 2013 تک

مختلف ذرائع سے اسلحہ خریدا ۔ پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں سینٹرل جیل کے حوالدار امین کی گمشدگی سے متعلق درخواست پر کیس کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کااعترافی بیان اور جے آئی ٹی رپورٹ پیش کردی۔ عزیربلوچ نے اپنے بیان حلفی میں بتایا کہ اس نے 2003 میں رحمان ڈکیٹ گروپ میں شمولیت اختیار کی، رحمان ڈکیٹ کی ہلاکت

کے بعد گروپ کی کمان سنبھالی اور پھر پیپلزامن کمیٹی کے نام پر مسلح دہشت گردی گروپ بنایا۔عزیربلوچ نے اعتراف کیا کہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے 2008 سے 2013 تک مختلف ذرائع سے اسلحہ خریدا جو مختلف افراد پشین اور کوئٹہ سے اسمگل کرکے کراچی لاتے تھے۔ اسمگل کئے گئے اسلحے کو پولیس مقابلوں، تھانوں پر حملوں، سیاسی جلسوں، مظاہروں اور دیگر تخریب

کاری کی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔عزیربلوچ نے بیان میں کہا کہ پولیس افسران کی تعیناتی اور بھتہ وصولی کے لئے علیحدہ مسلح گروپس بنائے گئے تھے جس میں ملانثار، استادتاجو، سہیل ڈاڈا اور سلیم چاکلیٹ سمیت دیگر افراد کی معاونت حاصل تھی۔ لیاری گینگ وار کے سرغنہ نے اعتراف کیا کہ اس نے سینٹرل جیل کے حوالدار امین عرف لالہ کو 2011 میں بدلہ لینے کے

لئے قتل کیا جب کہ غازی خان، شیرافضل خان اور شیراز کو بھی میں نے ہی قتل کیا اور پھر ان کی لاشوں کو تیزاب کے ذریعے مسخ کردیا گیا۔ عدالت نے 6 نومبر تک ایس ایس پی سے کیس کی پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…