منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

1945ء کے بعد پاکستان پھر شدید خطرے میں،لرزہ خیز پیش گوئی کردی گئی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) کراچی سمیت سندھ وبلوچستان کا ساحلی علاقہ خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پرواقع ہے اور زلزلہ وسونامی کا خطرہ موجود ہے۔ کراچی سمیت سندھ وبلوچستان کا ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے وسونامی کا خطرہ موجود ہے، ماضی میں 28 نومبر 1945 میں بحیرہ عرب کے شمال اور مکران کوسٹل میں خطرناک سونامی آنے سے 4ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ،

اس سونامی کے اثرات کراچی کے جزائر پر بھی پڑے تھے۔مختلف ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی بحیرہ عرب کے ساحل کے موڑ پر واقع اس لیے سونامی سے محفوظ ہے تاہم محکمہ موسمیات کے متعلقہ افسران کی آرا اس سے مختلف ہے جس کے تحت مکران سب ڈکشن پر آنے والے سونامی سے کراچی بھی لپیٹ میں آسکتا ہے۔دریں اثنا کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صوبائی ومقامی حکومتوں کی تیاریاں مکمل نہیں ہیں، متعلقہ سرکاری اداروں نے بڑی ناگہانی آفات زلزلہ ، سونامی، طوفان یا دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے نہ تو پیشگی کوئی انتظام کیا ہے اور نہ ہی قدرتی آفات آنے کے بعد ریسکیو آپریشن کرنے کی اہلیت موجود ہے، سول ڈیفنس 20 سال سے غیرفعال، پی ڈی ایم اے بھی عملی طور پر امدادی سرگرمیاں انجام دینے سے قاصر ہے جبکہ بلدیہ عظمی کراچی بڑی ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے مکمل استطاعت نہیں رکھتی، تین اسنارکل اور33 آگ بجھانے والی گاڑیاں کئی برسوں سے خراب ہیں۔کراچی میں 85 فیصد سے زائد بلند عمارتوں کی تعمیرات میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے، کراچی میں زیادہ شدت کا زلزلہ، سونامی و دیگر بڑی ناگہانی آفات انتہائی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، ماضی میں محکمہ سول ڈیفنس کے تحت ہر یونین کمیٹی میں ایک وارڈن اور 5رضاکار ہوتے تھے جومقامی سطح پرتمام نجی وسرکاری عمارات، اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی آبادی کی مکمل معلومات رکھتے تھے،

علاقائی سطح پر سائرن سسٹم موجود ہوتا تھا جبکہ رضاکاروں کی اعلی نوعیت کی تربیت بھی کی جاتی تھی، 20سال سے یہ محکمہ غیرفعال ہے، مقامی سطح پر رضاکار موجود نہیں ہے جبکہ سول ڈیفنس کے حکام صنعتی سطح پر حفاظتی اقدامات کے معائنے کے بہانے لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔8 اکتوبر 2005 میں ملک میں آنے والے خطرناک زلزلے کے بعد نینشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی کا ادارہ 2006 میں قائم کیا گیا،

بعدازاں 18ترمیم کے تحت 2010 میں اختیارات صوبائی حکومت کو تفویض کردیے گئے، تقریبا 12سال گزرجانے کے باوجود یہ ادارہ ناگہانی آفات کے بعد امدادی سرگرمیاں کرنے کے قابل نہیں بنا ہے، اس وقت یہ ادارہ صرف متعلقہ سرکاری ونجی محکمہ میں رابطہ وآگاہی مہم، تربیت، ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان اور وارننگ جاری کرنے کے فرائض انجام دے رہا ہے۔کراچی میں بلند عمارتوں کا جنگل قائم ہو چکا ہے ،

85فیصد سے زائد عمارات کی تعمیرات میں قوائد و ضوابط کی خلاف وزری کی گئی ہے جبکہ زلزلہ پروف عمارتوں کی تعمیرات کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے، کراچی میں زلزلہ یا سونامی آنے کی صورت میں بڑی تباہی آنے کا امکان ہے۔بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ چھوٹی قدرتی یا غیر قدرتی آفات کی صورت میں امدادی سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے جبکہ بڑی ناگہانی آفات سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتا ہے،

متعلقہ محکمہ کے پاس اسوقت صرف 45فائر ٹینڈر ہیں جن میں صرف 12صحیح حالت میں ہیں جبکہ 33آگ بجھانے والی گاڑیاں خراب ہیں، چاراسنارکل موجود ہے، صرف ایک اسنارکل کام کررہی ہے تین اسنارکل کئی سالوں سے خراب پڑی ہیں۔بلدیہ عظمی کراچی کا اربن سرچ اینڈ ریسکیو اکیڈمی(یو ایس آر اے) بھی بڑی آفات آنے کی صورت میں پھنسے ہوئے افراد کو بچانے کے لیے بڑی سطح پر کارروائی کرنے سے قاصر ہے، اس کے پاس چھوٹی مشینری ، 48تربیت یافتہ ملازمین ہیں جو امدادی سرگرمیوں میں کام کرتے ہیں تاہم ہیوی مشینری، بلڈوزر، ڈمپر لوڈر،کرینیں اور ہیلی کاپٹر موجود نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…