منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

2015ء کے بعد صورتحال تبدیل، چینی عوام سے جب یہ سوال پوچھا جائے کہ دنیا میں تمہارا سب سے بہترین دوست کون ہے؟ تو کس ملک کا نام لیتے ہیں؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان میں چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں یہ ضرب المثل چینی عوام خاص طورپر چینی نوجوانوں میں زبردست مقبولیت حاصل کر رہی ہے اس ضرب المثل سے دونوں ممالک کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی گرم جوشی سے دوستی کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے جو ہمارے لئے فخر اور مسرت کا باعث ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی چینی عوام سے یہ پوچھتا ہے کہ دنیا میں تمہار ا بہترین دوست کون ہے کہ تو وہ فوراً جواب دیتے ہیں کہ پاکستان،

یہ ضرب المثل پاکستان اور چین کے درمیان بلند اور مضبوط تعلقات کا اظہار کرتی ہے جو کہ ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک نمونہ اور مثال بن چکے ہیں، چینی سفیر نے چین پاکستان تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے بے مثال کردار ادا کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس ضرب المثل نے اس وقت چینی عوام میں مقبولیت حاصل کرنا شروع کی جب چین کے صدر نے اپریل 2015ء میں اپنے پاکستان کے دورے کے دوران اپنی تقاریر میں چین اور پاکستان کے تعلقات کے سلسلے میں کہا تھا کہ چین اور پاکستان آپس میں آئرن برادرز ہیں تاہم چین پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کو فولاد سے بھی زیادہ مضبوط تصور کرتا ہے، چینی عوام کی پاکستان کے ساتھ دوستی اور محبت اب نسلوں تک منتقل ہو گئی ہے اور یہ ہر آزمائش پر پوری اتری ہے، اسی لئے ہم اسے سدا بہار کہتے ہیں اور یہ جذباتی الفاظ ہم کسی اور ملک کے لیے استعمال نہیں کرتے، اسی طرح پاکستان کے عوام بھی چین پاکستان تعلقات کے بارے میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کی دوستی پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور فولاد سے زیادہ مضبوط اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے، یہ تاریخی ضرب المثل دونوں ملکوں کے گہرے تعلقات اور ایک دوسرے کے لئے گرم جوشی کی حقیقی اظہار کرتی ہے۔ واضح رہے کہ سن وی ڈونگ جو پاکستان میں چار سال تک سفارتی خدمات انجام دینے کے بعد

اس ماہ واپس جانے والے ہیں، نے کہا ہے کہ چین پاکستان دوستی دونوں ملکوں اور ان کے عوام کے لیے قیمتی اثاثہ ہے، آئرن برادرز کی اصطلاح دونوں ملکوں کی عوام کے ذہن میں ثقافت کی طرح رچ بس گئی ہے اور یہ نسل درنسل منتقل ہوجائے گی، اب ہمیں ان برادرانہ تعلقات کو ون بیلٹ ون روڈ منصوبے اور سی پیک کے نئے تحفوں کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرنا چاہئے، حال ہی میں اپنی ایک تقریر کے دوران چین پاکستان دوستی کے بارے میں سفیر موصوف نے ایک اور ضرب المثل بھی متعارف کرائی ہے کہ یہ دوستی ہمیشہ بہنے والے دریاؤں کی طرح خالص ہے اور خلوص پر مبنی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…