منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

رینجرز کی احتساب عدالت آمد کا واقعہ سنگین صورتحال اختیارکرگیا، حکومت کا’’سبق سکھانے‘‘ کا اعلان ،انتہائی اقدام

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں رینجرز کی تعیناتی پر رینجرز حکام سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔طلال چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر نیم فوجی دستے رینجرز کو کس نے بلایا اس معاملے کی انتظامی تحقیقات منگل کی رات مکمل ہو گئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ان تحقیقات میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کو طلب نہیں کیا گیا تھا۔طلال چوہدری نے بتایا کہ رینجرز حکام کی جانب سے 72 گھنٹوں میں جواب ملنے کی توقع ہے جس کے بعد ہی مزید مشاورت کی جائے گی۔انھوں نے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر رینجرز حکام کی جانب سے وزیر داخلہ احسن اقبال کے احکامات ماننے سے انکار کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈسپلن کے اس طرح کے واقعات ہوں گے تو پھر فورسز اور اداروں کا چلنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے، تو ڈسپلن میں رہنے کیلئے سزا اور جزا دونوں ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سول ادارے کمزور ہیں لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہم ایک جمہوری اور حکمراں جماعت کے طور پر قانون پر عمل داری کو یقینی بنانے کی کوشش نہ کریں، ہم بالکل کریں گے اور اسی طرح سے ادارے نظم و ضبط کے دائرے میں کام کرنا آہستہ آہستہ سیکھ جائیں گے۔وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں رینجرز کی تعیناتی پر رینجرز حکام سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…