منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چھوارے فروخت نہیں کررہا ، سستی بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہوں :شہباز شریف

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن سے اپنے خطاب میں پشاور میں ڈینگی کی حالیہ وبا کے دوران مریضوں کے ساتھ اظہار یکجہتی نہ کرنے پر عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پشاور میں ڈینگی آتے ہی وہ ڈر کر پہاڑوں پر چڑھ گئے جبکہ لوگ ڈینگی کا شکار ہورہے ہیں ۔ لیڈر ایسے نہیں ہوتے بلکہ وہ مشکل حالات میں عوام کے ساتھ ہوتے ہیں ۔

ایک موقع پر وزیر اعلی نے پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت کے دوران بجلی کے منصوبوں میں لوٹ مار کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ توانائی منصوبوں کے نام پر 20 کروڑ لوگوں کی جیبیں کاٹی گئیں اور نندی پور پراجیکٹ پر شب خون مارا گیا۔ وزیر اعلی نے شہر لاہور کے کارکنوں ، بھائیوں ، بہنوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تالیاں یہ بتا رہی ہیں اور پوچھ رہی ہیں کہ تم حلقے میں آیا کرتے تھے لیکن اب کہاں ہو ۔ میں لوگاٹھیں اور چھوارے فروخت نہیں کررہا بلکہ سستی بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہوں ۔ سابق دور میں الحمرا ہال میں بھی کئی کئی بار بجلی جاتی تھی لیکن اب لوڈ شیڈ نگ ختم ہو گئی ہے ۔ وزیر اعلی شہباز شریف کے خطاب کے دوران کارکنوں نے پرجوش انداز میں نعرے لگائے جس پر شہباز شریف کو کئی بار اپنی تقریر روکنا پڑی اور وہ بار بار کارکنوں کو نعرے لگانے سے منع کرتے رہے ۔وزیر اعلی نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملے پر جس نے بھی الفاظ تبدیل کئے ہیں اس کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے ۔ وزیر اعلی نے محمد نواز شریف زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے۔ وزیر اعلی نے بھابی کلثوم نواز کی صحتیابی کیلئے دعا بھی کرائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…