پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیاگیا، کروڑوں روپے کی اراضی تحصیلدار نے قبضہ مافیا کے نام ٹرانسفر کر دی

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

قصور(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کو نظر انداز کر تے ہوئے کروڑوں روپے کی اراضی تحصیلدار قصور نے رشوت لے کر قبضہ مافیا کے نام ٹرانسفر کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق قصور کے رہائشی شیر محمد وغیرہ نے اپنی وراثتی جائیداد کے کیس سلسلہ میں سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک قانونی جنگ لڑی او ربلا آخر سپریم کورٹ آف پاکستا ن نے ان کے حق میں فیصلہ سنادیا

مگر تحصیلدار قصور و سب رجسٹر ار غضنفر نوید اور دیگر ریونیو عملہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کی بجائے رشوت لے کر ضلع اوکاڑہ کے رہائشی محمد انور خاں وغیرہ کے نام جگہ منتقل کردی اس طرح دہائیوں قانونی جنگ لڑنے کے باوجود شیر محمد وغیرہ کو انصاف نہ ملا اور محکمہ ریونیو کے کرپٹ سب رجسٹرار غضنفر نوید وغیرہ نے دیدہ دلیری سے زمین کا انتقال دوسری پارٹی کے نام منقل کر دیا جس پر شیر محمد وغیرہ نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کو فیصلے کے نقول اور دیگر ثبوت لف کرکے درخواست گزاری جس پر تمام فریقین کو طلب کرکے انکوائری کی گئی جس میں ثابت ہو گیا کہ سب رجسٹرار قصور غضنفر نوید نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کی بجائے ملزمان محمد انور خاں اور محمد سرور سلطان خاں وغیرہ سے رشوت لے کر زمین ان کے نام رجسٹر ڈ کر دی دوسری طرف محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے باضابطہ انکوائری کرنے کے بعد مقدمہ نمبر 06/17تو در ج کر لیا گیا مگر ملزمان کو پکڑنے کی بجائے ان سے رشوت لے لی اور سب رجسٹرار قصور غضنفر نوید سمیت تمام عملہ اپنے اپنے عہدوں پر براجمان ہیں ۔ جب اس سلسلہ میں سب رجسٹرار قصور کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن نے مقدمہ کے اندراج کے بعد ہمارے حق میں فیصلہ کردیا تھا جب ان سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے اپنا فون بند کر دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…