پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے کس علاقے میں سردیاں شروع ہونے سے پہلے ہی برف باری شروع ہو گئی ؟

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

چترال(مانیٹرنگ ڈیسک)موسم سرما کےآغاز سے قبل ہی صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال کے بلند پہاڑوں اور ارد گرد کے چند علاقوں میں برف باری کا آغاز ہوگیا ہے۔نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائی‘‘کی رپورٹ کے مطابق یہ حصہ ملک کا واحد حصہ ہے جہاں رواں برس مون سون کی ایک بھی بارش نہیں ہوئی۔اس بارے میں ضلعی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مشتاق شاہ نے بتایا کہ گو کہ اس بار جلد برف باری کی پیشن گوئی تو تھی

مگر یہ اس پیشن گوئی سے بھی قبل ہوگئی ہے۔ان کے مطابق موسم کی پہلی برفباری بالائی چترال کے بونی علاقے میں ہوئی جب کچھ زیریں علاقوں میں شدید بارش بھی ہوئی۔مشتاق شاہ کا کہنا تھا کہ معمول کے موسم کے مطابق خیبر پختونخواہ اور صوبہ پنجاب میں موسم سرما کی پہلی برف باری نومبر میں ہوتی ہے، تاہم اس سال موسم سرما اپنے وقت سے قبل آگیا اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ یا تو یہ اپنے وقت سے پہلے اختتام پذیر ہوگا، یا پھر مقررہ وقت کے بعد تک بھی جاری رہے گا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سخت موسم سرما میں زیادہ برفباری اور پھر اس برف کے پگھلنے سے چترال سمیت خیبر پختونخواہ کے زیریں علاقوں میں سیلاب کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔دوسری جانب مون سون کا موسم ختم ہونے کے بعد مالاکنڈ، صوابی، مردان اور پشاور کے کچھ علاقوں میں بارش بھی ہوئی جسے محکمہ موسمیات نے سردی کی بارشیں قرار دیا ہے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے یونائیڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر اگنیشیوارٹزا نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم چترال میں قدرتی آفات سے پہنچنے والی انفراسٹرکچر کی بحالی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے اور مقامی لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کے ذریعے نقصانات کو کم سے کم کرنے کا خواہش مند ہے جبکہ حکومت کے ساتھ قریبی روابط استوار کرکے اس کام کو انجام دیا جائیگا۔منگل کے روز ضلعی حکومت کے

کانفرنس روم میں گذشتہ سالوں میں قدرتی آفات کے حوالے سے ایک بریفنگ میں شرکت کرنے اور سیلاب زدہ علاقوں کی کمیونٹی کے ساتھ خصوصی نشست کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں یہ خطہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور مستقبل میں بھی بھیانک قسم کے خطرات سے دوچار ہے جس کے لئے ابھی سے تیاری کرنے اور کمیونٹی کو موبلائز کرنے کی ضرورت ہے اور یواین ڈی پی اس

سلسلے میں مرکزی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یواین ڈی پی نے گرین کلائمیٹ فنڈ کی مالی معاونت سے خیبرپختونخوا کے پانج اور گلگت بلتستان کے ساتھ اضلاع میں گلیشیر کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے اور مقامی کمیونٹی کو تیار کرنے کے لئے گلاف پراجیکٹ شروع کررہی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…