ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کے کس علاقے میں سردیاں شروع ہونے سے پہلے ہی برف باری شروع ہو گئی ؟

datetime 21  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چترال(مانیٹرنگ ڈیسک)موسم سرما کےآغاز سے قبل ہی صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال کے بلند پہاڑوں اور ارد گرد کے چند علاقوں میں برف باری کا آغاز ہوگیا ہے۔نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائی‘‘کی رپورٹ کے مطابق یہ حصہ ملک کا واحد حصہ ہے جہاں رواں برس مون سون کی ایک بھی بارش نہیں ہوئی۔اس بارے میں ضلعی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مشتاق شاہ نے بتایا کہ گو کہ اس بار جلد برف باری کی پیشن گوئی تو تھی

مگر یہ اس پیشن گوئی سے بھی قبل ہوگئی ہے۔ان کے مطابق موسم کی پہلی برفباری بالائی چترال کے بونی علاقے میں ہوئی جب کچھ زیریں علاقوں میں شدید بارش بھی ہوئی۔مشتاق شاہ کا کہنا تھا کہ معمول کے موسم کے مطابق خیبر پختونخواہ اور صوبہ پنجاب میں موسم سرما کی پہلی برف باری نومبر میں ہوتی ہے، تاہم اس سال موسم سرما اپنے وقت سے قبل آگیا اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ یا تو یہ اپنے وقت سے پہلے اختتام پذیر ہوگا، یا پھر مقررہ وقت کے بعد تک بھی جاری رہے گا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سخت موسم سرما میں زیادہ برفباری اور پھر اس برف کے پگھلنے سے چترال سمیت خیبر پختونخواہ کے زیریں علاقوں میں سیلاب کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔دوسری جانب مون سون کا موسم ختم ہونے کے بعد مالاکنڈ، صوابی، مردان اور پشاور کے کچھ علاقوں میں بارش بھی ہوئی جسے محکمہ موسمیات نے سردی کی بارشیں قرار دیا ہے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے یونائیڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر اگنیشیوارٹزا نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم چترال میں قدرتی آفات سے پہنچنے والی انفراسٹرکچر کی بحالی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے اور مقامی لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کے ذریعے نقصانات کو کم سے کم کرنے کا خواہش مند ہے جبکہ حکومت کے ساتھ قریبی روابط استوار کرکے اس کام کو انجام دیا جائیگا۔منگل کے روز ضلعی حکومت کے

کانفرنس روم میں گذشتہ سالوں میں قدرتی آفات کے حوالے سے ایک بریفنگ میں شرکت کرنے اور سیلاب زدہ علاقوں کی کمیونٹی کے ساتھ خصوصی نشست کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں یہ خطہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور مستقبل میں بھی بھیانک قسم کے خطرات سے دوچار ہے جس کے لئے ابھی سے تیاری کرنے اور کمیونٹی کو موبلائز کرنے کی ضرورت ہے اور یواین ڈی پی اس

سلسلے میں مرکزی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یواین ڈی پی نے گرین کلائمیٹ فنڈ کی مالی معاونت سے خیبرپختونخوا کے پانج اور گلگت بلتستان کے ساتھ اضلاع میں گلیشیر کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے اور مقامی کمیونٹی کو تیار کرنے کے لئے گلاف پراجیکٹ شروع کررہی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونگے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…