جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پاکستان کے کس علاقے میں سردیاں شروع ہونے سے پہلے ہی برف باری شروع ہو گئی ؟

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

چترال(مانیٹرنگ ڈیسک)موسم سرما کےآغاز سے قبل ہی صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال کے بلند پہاڑوں اور ارد گرد کے چند علاقوں میں برف باری کا آغاز ہوگیا ہے۔نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائی‘‘کی رپورٹ کے مطابق یہ حصہ ملک کا واحد حصہ ہے جہاں رواں برس مون سون کی ایک بھی بارش نہیں ہوئی۔اس بارے میں ضلعی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مشتاق شاہ نے بتایا کہ گو کہ اس بار جلد برف باری کی پیشن گوئی تو تھی

مگر یہ اس پیشن گوئی سے بھی قبل ہوگئی ہے۔ان کے مطابق موسم کی پہلی برفباری بالائی چترال کے بونی علاقے میں ہوئی جب کچھ زیریں علاقوں میں شدید بارش بھی ہوئی۔مشتاق شاہ کا کہنا تھا کہ معمول کے موسم کے مطابق خیبر پختونخواہ اور صوبہ پنجاب میں موسم سرما کی پہلی برف باری نومبر میں ہوتی ہے، تاہم اس سال موسم سرما اپنے وقت سے قبل آگیا اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ یا تو یہ اپنے وقت سے پہلے اختتام پذیر ہوگا، یا پھر مقررہ وقت کے بعد تک بھی جاری رہے گا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سخت موسم سرما میں زیادہ برفباری اور پھر اس برف کے پگھلنے سے چترال سمیت خیبر پختونخواہ کے زیریں علاقوں میں سیلاب کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔دوسری جانب مون سون کا موسم ختم ہونے کے بعد مالاکنڈ، صوابی، مردان اور پشاور کے کچھ علاقوں میں بارش بھی ہوئی جسے محکمہ موسمیات نے سردی کی بارشیں قرار دیا ہے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے یونائیڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر اگنیشیوارٹزا نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم چترال میں قدرتی آفات سے پہنچنے والی انفراسٹرکچر کی بحالی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے اور مقامی لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کے ذریعے نقصانات کو کم سے کم کرنے کا خواہش مند ہے جبکہ حکومت کے ساتھ قریبی روابط استوار کرکے اس کام کو انجام دیا جائیگا۔منگل کے روز ضلعی حکومت کے

کانفرنس روم میں گذشتہ سالوں میں قدرتی آفات کے حوالے سے ایک بریفنگ میں شرکت کرنے اور سیلاب زدہ علاقوں کی کمیونٹی کے ساتھ خصوصی نشست کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں یہ خطہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور مستقبل میں بھی بھیانک قسم کے خطرات سے دوچار ہے جس کے لئے ابھی سے تیاری کرنے اور کمیونٹی کو موبلائز کرنے کی ضرورت ہے اور یواین ڈی پی اس

سلسلے میں مرکزی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یواین ڈی پی نے گرین کلائمیٹ فنڈ کی مالی معاونت سے خیبرپختونخوا کے پانج اور گلگت بلتستان کے ساتھ اضلاع میں گلیشیر کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے اور مقامی کمیونٹی کو تیار کرنے کے لئے گلاف پراجیکٹ شروع کررہی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…