پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے ساتھ مل کرپاکستان کیخلاف سازش سوئزرلینڈ کے سفیر کوپاکستان سے نکالنے کا اعلان؟

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ جنیوا میں پاکستان مخالف پوسٹرز اور بینرز آویزاں کرنے کے معاملے پر سوئٹزرلینڈ کے سفیر کو ملک بدر کر دیا جائے ۔ایوان بالا کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے جنیوا میں پاکستان مخالف بینرز آویزاں کرنے کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ’ ’جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے

دوران کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے پوسٹرز آویزاں کیے گئے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ معاملہ سوئس حکام کے ساتھ اٹھایا ہے، سوئس حکومت سے کہاگیا ہے کہ یہ نفرت آمیز رویہ ناقابل قبول ہے، اس پر ایکشن لیا جانا چاہئے۔جس کے جواب میں سوئس حکام نے کہا ہے کہ سوئس آئین کے تحت اظہار رائے کی اجازت ہے ماسوائے وہ سوئس لاءکے خلاف نہ ہو اور سوئس حکومت ان پوسٹرز کو ہٹانے کی درخواست نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ اس سال بھی ’فری بلوچستان‘ کے پوسٹرز لگائے گئے، ان پوسٹرز کو بلوچستان ہائوس نے اسپانسر کیا جس کا تعلق بی آیل اے کے ساتھ ہے، جبکہ یہ مہم پاکستان کی سرحدی خودمختاری، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’جنیوا میں بی ایل اے کی مہم کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دفتر خارجہ سوئس سفیر کو پاکستان چھوڑنے کا کہے اور سفیر کو ملک سے نکالنے کا اعلان کرے۔دوسری جانب پاکستان مخالف سازش کے بعد پاکستان نے جنیوا، سوئٹزر لینڈ میں کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پوسٹرز آویزاں کردیئے۔ اقوام متحدہ کے دوسرے بڑے دفتر کے باہر جنیوا شہر کی سڑکوں پہ لگائے پوسٹرز میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، بھارتی قابض فوجیوں کی جانب سے معصوم شہریوں،

خواتین، بزرگوں اور بچوں کو ظالمانہ اور کھلے عام تشدد کا نشانہ بنانے کے متعلق نعرے درج ہیں۔ دفترخارجہ اسلام آباد کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر کے مطابق پاکستان نے گزشتہ روز جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے سڑکوں پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف پوسٹرز آویزاں کردیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…