جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

ہاتھ نہیں ڈال سکتے کیونکہ۔۔پانامہ جے آئی ٹی رکن کے سامنے سپریم کورٹ بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما جے آئی ٹی کے رکن اور ڈی جی نیب بلوچستان عرفان نعیم منگی کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کی ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب کرپشن کا سہولت کار بن چکا ہے۔ جسٹس دوست محمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ

عرفان نعیم منگی کیخلاف کل انکوائری ہو رہی تھی آج وہ ہیرو بن گیا ہے، محض عدالتی فیصلے کے باعث عرفان نعیم منگی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔سپریم کورٹ نے گندم کرپشن کیس میں گرفتار بلوچستان حکومت کے سابق وزیر خوراک اسفند یار خان کاکڑ کی پچاس لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔ اس موقع پر عدالت عظمیٰ نے ڈی جی نیب بلوچستان اور پاناما جے آئی ٹی کے رکن عرفان نعیم منگی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس فائز عیسی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیوں نہ ڈی جی نیب بلوچستان کو بھی شریک ملزم بنایا جائے، نیب اہلکاروں کیخلاف مقدمات بنیں گے تو ہی بہتری آئے گی، نیب کرپشن کا سہولت کار بن چکا ہے ٗبلوچستان میں کئی اہم مقدمات تاخیر کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں رنگے ہاتھوں پکڑا جانے والا بھی چھوٹ جاتا ہے، نیب نے کرپشن مقدمات کو مذاق بنا رکھا ہے، قومی احتساب بیورو نے 30 دن میں ٹرائل مکمل کرنا ہوتا ہے جو 30 ماہ میں بھی نہیں ہوتا، قوم کے پیسے سے تنخواہ لے کر قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، قوم کے 771 ملین چوری ہوگئے اور نیب سو رہا ہے، قومی احتساب بیورو نے آج تک تیس دن میں کوئی ٹرائل مکمل نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…