اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹرعاصم کس کو دیکھ کر چیختے چلاتے ہیں، رات بھر کیوں نہیں سوسکتے ؟ دن میں کیا کرتے ہیں ؟ دل دہلا دینے والے انکشافات‎

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمدنے کہا ہے کہ نیب پلی بار گین کرکے سہولت کاری کا کام سرانجام دیتا ہے اور اس نے ملکی اداروں کو تباہ کردیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق منگل کوسپریم کورٹ میں ڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں نیب کے وکیل ناصر مغل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ ڈاکٹر عاصم پہلے ویل چیئر کا استعال کرتے تھے مگر اب وہ احتساب عدالت

میں بغیر ویل چیئر چلتے پھرتے ہیں۔اس پر جسٹس دوست محمد نے دلچسپ ریمارکس میں کہا کہ میڈیا نے ڈاکٹر عاصم کی ریسلر کی طرح احتساب عدالت میں پیش ہوتے کوریج کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے ڈاکٹر عاصم کی میڈیکل رپورٹس کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔جسٹس دوست محمد نے استفسار کیا، کیا میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں؟ میڈیکل رپورٹس قبول نہیں تو پھر نئی رپورٹ کہاں سے لیں۔دوران سماعت جسٹس دوست محمد نے کہا کہ نیب پلی بارگین کرکے سہولت کاری کا کام سرانجام دیتا ہے اس نے ملکی اداروں کو تباہ کردیا ہے۔جب کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ احتساب عدالت میں ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوا؟ لگتا ہے نیب کیس کو لمبا کرنا چاہتا ہے، نیب دل سے کام کرتا تو اب تک کیس ختم ہو جاتا۔ڈاکٹر عاصم کی رپورٹ کے مطابق ان کو زیادہ نفسیاتی مسائل ہیں ،رینجرز کی وردی کو دیکھ کر بھی چیخیں مارتے ہیں ،رات کو جاگتے ہیں اوردن میں گولیاں کھا کر سوتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ سنگین مقدمات میں لوگ بیرون ملک جاکربیٹھ جاتے ہیں۔اس موقع پر جسٹس قاضی فائز کا کہناتھا کہ جرائم پیشہ افراداوردہشتگردوں میں فرق ہوتاہے،کالعدم تنظیم کے لوگوں سے تووزیرداخلہ بھی ملتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز کا کہنا تھا کہ نیب پک اینڈ چوز کرتا ہے تو حیرانگی ہوتی ہے، کیا کاروبار کا حق زندگی کے بنیادی حق سے زیادہ اہم ہے، مقدمے کے

شریک ملزم اقبال زیڈ احمد کو کاروبار کے لیے بیرون ملک جانے دیا گیا، قانون کو خرید وفروخت کے لیے استعمال نہ کریں۔انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ نیب کسی ایجنڈے کے طور پرکام تو نہیں کررہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…