ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ڈاکٹرعاصم کس کو دیکھ کر چیختے چلاتے ہیں، رات بھر کیوں نہیں سوسکتے ؟ دن میں کیا کرتے ہیں ؟ دل دہلا دینے والے انکشافات‎

datetime 29  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمدنے کہا ہے کہ نیب پلی بار گین کرکے سہولت کاری کا کام سرانجام دیتا ہے اور اس نے ملکی اداروں کو تباہ کردیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق منگل کوسپریم کورٹ میں ڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں نیب کے وکیل ناصر مغل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ ڈاکٹر عاصم پہلے ویل چیئر کا استعال کرتے تھے مگر اب وہ احتساب عدالت

میں بغیر ویل چیئر چلتے پھرتے ہیں۔اس پر جسٹس دوست محمد نے دلچسپ ریمارکس میں کہا کہ میڈیا نے ڈاکٹر عاصم کی ریسلر کی طرح احتساب عدالت میں پیش ہوتے کوریج کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے ڈاکٹر عاصم کی میڈیکل رپورٹس کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔جسٹس دوست محمد نے استفسار کیا، کیا میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں؟ میڈیکل رپورٹس قبول نہیں تو پھر نئی رپورٹ کہاں سے لیں۔دوران سماعت جسٹس دوست محمد نے کہا کہ نیب پلی بارگین کرکے سہولت کاری کا کام سرانجام دیتا ہے اس نے ملکی اداروں کو تباہ کردیا ہے۔جب کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ احتساب عدالت میں ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوا؟ لگتا ہے نیب کیس کو لمبا کرنا چاہتا ہے، نیب دل سے کام کرتا تو اب تک کیس ختم ہو جاتا۔ڈاکٹر عاصم کی رپورٹ کے مطابق ان کو زیادہ نفسیاتی مسائل ہیں ،رینجرز کی وردی کو دیکھ کر بھی چیخیں مارتے ہیں ،رات کو جاگتے ہیں اوردن میں گولیاں کھا کر سوتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ سنگین مقدمات میں لوگ بیرون ملک جاکربیٹھ جاتے ہیں۔اس موقع پر جسٹس قاضی فائز کا کہناتھا کہ جرائم پیشہ افراداوردہشتگردوں میں فرق ہوتاہے،کالعدم تنظیم کے لوگوں سے تووزیرداخلہ بھی ملتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز کا کہنا تھا کہ نیب پک اینڈ چوز کرتا ہے تو حیرانگی ہوتی ہے، کیا کاروبار کا حق زندگی کے بنیادی حق سے زیادہ اہم ہے، مقدمے کے

شریک ملزم اقبال زیڈ احمد کو کاروبار کے لیے بیرون ملک جانے دیا گیا، قانون کو خرید وفروخت کے لیے استعمال نہ کریں۔انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ نیب کسی ایجنڈے کے طور پرکام تو نہیں کررہا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…