اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد، سوتیلی بہن کے ساتھ دوسگے بھائیوں نے زیادتی کانشانہ بناڈالا،لرزہ خیز واقعہ،ملزم گرفتا

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

آباد(آن لائن)والدین سے ملنے میکے جانے والی رکشہ ڈرائیورکی بیوی کی سات سالہ سوتیلی بیٹی کوبارہ سالہ اورسترہ سالہ دوسگے بھائیوں نے زیادتی کانشانہ بناڈالا۔پولیس نے دونوں لڑکوں کوگرفتارکرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیاہے۔’’آن لائن‘‘ کوموصول ہونے والی معلومات کے مطابق ٹیکسلاکے رہائشی رکشہ ڈرائیورمعروف شاہ کی بیوی رفعت بی بی اپنی سات سالہ سوتیلی بیٹی ’’ع ‘‘کے ہمراہ اپنے والدین سے ملنے میکے ڈھوک سیداں گرجاروڈ راولپنڈی آئی ہوئی تھی۔

جہاں اس کے سگے بھائیوں بارہ سالہ یاسراورسترہ سالہ حسنین نے موقع پاکر بچی کو زیادتی کانشانہ بناڈالا۔متاثرہ بچی کے والدین کے مطابق سولہ اگست کی رات کو دن کے وقت یاسرنے ہماری بچی کے ساتھ زیادتی کی اسی رات حسنین نے گھروالوں کو جوس میں نشہ آورشے ملاکر پلا دی جس کی وجہ سے تمام گھروالے نیم بے ہوش ہوگئے۔اس دوران اس نے بچی کو زیادتی کانشانہ بنایا۔بعدازاں بچی کے بتانے پر متعلقہ تھانہ صدربیرونی درخواست دی۔پولیس نے بچی کا میڈیکل کروایاجس کی رپورٹ مثبت آگئی جس کے بعد پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتارکرلیاہے۔بتایاگیاہے کہ سترہ سالہ ملزم حسنین ڈھوک سیداں میں پینٹرکاکام کرتاہے جبکہ اس کا چھوٹابھائی بارہ سالہ ملزم یاسرمقامی سرکاری سکول میں پڑھتاہے۔ متاثرہ بچی کے والدین نے بتایاکہ ہماری بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزمان کو سخت سے سخت سزاملنی چاہئے جبکہ ملزمان کاخاندان پولیس کے ذریعے صلح کے لئے دباؤڈال رہے ہیں۔معلوم ہواہے کہ زیادتی کانشانہ بننے والی کمسن بچی کا باپ رکشہ ڈرائیورمعروف شاہ 2009ء میں محمداسحاق نامی شخص کے قتل میں جیل چلاگیاتھایوں پانچ سال اس نے جیل کاٹی اورپھررہائی پائی۔اس دوران رکشہ ڈرائیورکی والدہ جوکہ ٹیکسلامیں کونسلربھی رہ چکی ہیں 2012ء میں اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئی اور ٹیکسلاکچہری کے سامنے فائرنگ کے نتیجے میں قتل ہوگئی ۔بتایاگیاہے کہ رکشہ ڈرائیورقتل کیس میں جب رہاہواتواس کی بیٹی ’’ع ‘‘ اس وقت دوسال کی تھی جب اس کی حقیقی ماں ارسیٰ بی بی نے دوسری شادی رچالی ۔جس کے بعد رکشہ ڈرائیورنے بھی رفعت بی بی نامی خاتون سے دوسری شادی کرلی اور’’ع ‘‘کواپنے ہمراہ رکھاجوبعدازاں رفعت بی بی کے سگے بھائیوں کے ہاتھوں زیادتی کانشانہ بن گئی ہے۔۔(شبیرسہام)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…