جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اپوزیشن لیڈر کا ایک بار پھر اسمبلیوں کی مدت 4 سال کرنے کا مطالبہ

datetime 26  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے ایک بار پھر اسمبلیوں کی مدت 4سال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹائم کو کم کرنا ذاتی مفاد نہیں بلکہ کبھی بھی پاکستان میں جمہوریت صحیح معنوں میں نہیں چلی۔ہفتہ کے روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے قومی اسمبلی کی5سالہ مدت کو ایک سال کم کرکے 4سال رکھنے کا مطالبہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور دیگر جماعتوں سے کہتا ہوں کہ جو انتخابی اصلاحات ہو رہی ہیں

ان میں ترامیم کرکے اسمبلیوں کی مدت4سال کی جائے کیونکہ پاکستان میں کبھی بھی جمہوریت کو صحیح طریقے سے پٹڑی پر نہیں چلنے دیاگیا۔انہوں نے کہا کہ ہم میں لمبا عرصہ کسی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتے اس لئے نواز شریف اور اسحاق ڈار سے 2014ء میں بھی کہا تھا کہ اسمبلیوں کی مدت 4سال رکھ لیں جس پر نوازشریف اور اسحاق ڈار دونوں متفق تھے کہ اگلی مرتبہ اسمبلیوں کی مدت4سال رکھیں گے۔خورشید شاہ نے کہا کہ مردم شماری کے عمل میں جان چھڑائی گئی ہے اور مردم شماری کو صحیح طریقے سے نہیں کیا گیا ہے،فوج اور ادارے شماریات کی رپورٹوں کا آپس میں موازنہ کیا جائے تو پھر اصل حقائق قوم کے سامنے آجائیں گے۔ اپوزیشن لیڈر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ اسمبلیوں کی مدت2یا4سال کرنے سے جمہوری تسلسل سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے گا،اگر پیپلزپارٹی الیکشن نہیں جیت سکتی تو پھر اس لئے اسمبلیوں کی مدت بھی کم کردی جائے یہ چیز مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اسمبلیوں کی مدت4 سال ہی ہونی چاہئے اور ملک میں وزیراعظم کو 10یا12 سال سے زیادہ سیاست میں نہیں رہنا چاہئے اس لئے ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیوں کے ڈھانچے نہیں بنتے اور ڈکٹیٹر شپ کو آنے کا موقع مل جاتا ہے۔دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اپنے رد عمل میں کہا کہ اسمبلی کی مدت4سال ہونا کوئی حرج نہیں ہے،4

سال بھی کسی حکومت کی کامیابیاں اور ناکامیاں عوام کے سامنے لے آتے ہیں اور ویسے بھی سابق وزرائے اعظم میرظفراللہ جمالی،یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف عہدوں سے تو ہٹ گئے لیکن ان کی پارٹیاں حکومتیں چلاتی رہیں اور جمہوریت کو نقصان نہیں ہوا،ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ مصدق ملک اسمبلیوں کی مدت 5سال رہنے کی حمایت نہ کریں کبھی خود مصدق ملک نے تو کونسلر یا زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین کا الیکشن نہیں جیتا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…