بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

بلٹ پرف بیک اَپ گاڑی میں سوار کون سے اہم پی پی رہنما اچانک غائب کیوں ہو گئے تھے؟ اہم انکشافات

datetime 26  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کیس کی سماعت کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں رحمٰن ملک، بابر اعوان اور دیگر کے لیاقت باغ سے ‘اچانک غائب ہوجانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اصغر علی خان نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسپیشل پراسکیوٹر خواجہ امتیاز سے

استفسار کیا کہ بینظیر بھٹو کی بیک اَپ گاڑی میں سوار رحمٰن ملک، بابر اعوان اور دیگر افراد محترمہ کی گاڑی لیاقت باغ سے روانہ ہونے سے قبل ہی زرداری ہاؤس کیوں چلے گئے؟واضح رہے کہ سینئر پولیس افسران سمیت استغاثہ کے متعدد گواہان کے بیانات کے مطابق بینظیر بھٹو کی بیک اَپ گاڑی (بلٹ پروف مرسڈیز) سابق وزیراعظم کے قافلے میں کسی ایمرجنسی کی صورتحال کے پیش نظر شامل کی گئی تھی۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ رحمٰن ملک اور بابر اعوان کے علاوہ فرحت اللہ بابر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء بھی بیک اَپ گاڑی میں سوار تھے۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اس کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے بیک اَپ گاڑی میں سوار مسافروں کو فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی جانب سے استفسار کے بعد پراسیکیوٹر نے انکشاف کیا کہ بینظیر بھٹو کی بدقسمت گاڑی اور بیک اَپ کار کے تقریباً ایک درجن مسافروں میں سے صرف 2 نے کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کے سیکشن 164 کے تحت بیانات ریکارڈ کروائے۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ بینظیر بھٹو کے قتل سے پہلے ہی بیک اَپ گاڑی جائے وقوع سے روانہ ہوچکی تھی، لہذا انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے اپنے ابتدائی بیان میں بیک اَپ گاڑی کے مسافروں نے بیان دیا کہ انہیں واقعے کے بارے میں کچھ علم نہیں

کیونکہ وہ اُس وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔جب جج نے استفسار کیا کہ بیک اَپ گاڑی اتنی جلد بازی میں کیوں روانہ ہوئی تو پراسیکیوٹر نے بتایا کہ انہیں محترمہ بینظیر بھٹو کے پہنچنے سے قبل اسلام آباد میں واقع زرداری ہاؤس میں انتظامات کروانے تھے۔خصوصی عدالت کے جج نے استفسار کیا، ‘بیک اَپ کار کے مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں محترمہ بینظیر بھٹو کے لیے زرداری ہاؤس کھلوانا تھا، کیا اس کام کے لیے وہاں

کوئی ملازم موجود نہیں تھا؟ تاہم پراسیکیوٹر اس سوال کا جواب نہ دے سکے۔اس سوال کے جواب میں کہ بینظیر بھٹو کے لیے مخصوص کی گئی گاڑی میں کتنے لوگ سوار تھے، پراسیکیوٹر نے اُس وقت کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ریٹائرڈ میجر امتیاز حسین، ناہید خان، صفدر عباسی، مخدوم امین فہیم، خالد شہنشاہ، رزاق میرانی اور ڈرائیور جاوید رحمٰن کے نام بتائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…