ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

گورنر سندھ محمدزبیر نے چوہدری نثار کے موقف کی تردید کردی،جب افتخار چوہدری کے بیٹے کی باری تھی تو کیا ہوا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 20  اگست‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی ) گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ بطور وزیراعظم نوازشریف بیٹوں کے معاملات میں شامل نہیں ، چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے کی باری تھی تو اس میں کیا فیصلہ ہوا،الطاف حسین کے طرز سیاست کی اب کوئی گنجائش نہیں ، کراچی کی بدامنی کی سب سے زیادہ ذمہ داری جنرل (ر) پرویز مشرف پر تھی ،چوہدری نثار کی اپنی رائے ہے وہ تجربہ کار سیاستدان ہیں ۔اتوار کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ عدالتی فیصلے نااہلی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ ہے ،

اس تاریخی واقعہ پر کھل کر بحث ہونی چاہیے اس فیصلے کو سازش کہنے کیلئے کوئی حقیقت موجود نہیں ، کیس میں بہت کچھ سن رہے تھے مگر فیصلہ کچھ اور ہوا ۔انہوں نے کہا کہ جب سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے کی باری تھی تو اس میں کیا فیصلہ ہوا ،بطور وزیراعظم نوازشریف بیٹوں کے معاملات میں شامل نہیں ، گورنر سندھ نے کہا کہ حکومت کوئی بھی ہو چاہے وفاقی ہو یا صوبائی یا لوکل اگر آپ نے معیشت کو آگے لے جانا ہے اس میں مرکزی کردار نجی سیکٹر کا ہوتا ہے ، نجی سیکٹر کو لانے کیلئے آپ کو انفراسٹرکچر کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے لئے وفاقی حکومت کے دیے گئے پیکج میں ہماری ترجیح انڈسٹریل زون کی اپ گریڈیشن ہے ۔محمد زبیر عمر نے کہا کہ سارے اثاثے ظاہر کئے اور ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے، عدالتی کارروائی ایسے نہیں چلتی ، غلطی بتانا ہوتی ہے ، چوہدری نثار اپنی رائے ہے وہ تجربہ کار سیاستدان ہیں ، ایسے فیصلے میں پتہ چلتا ہے پوری پارٹی ٹوٹ جاتی ہے ، داخلی طور پر تو ہر جامعت میں اختلاف ہوتے ہیں ، کیا کوئی ایسا وزیراعظم ہے جس کے ساتھ مسائل نہ ہوں ، حکومت کو چاہیے کہ انفراسٹرکچر کو ٹھیک کرے ۔ محمد زبیر نے کہا کہ الطاف حسین کی طرز سیاست کی اب کوئی گنجائش نہیں ، کراچی کی بدامنی کی سب سے زیادہ ذمہ داری سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پر ہے ۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ہم سے کہا ہے کہ ہمارے دفاتر پر قبضہ ہے جس پر ہم نے ان سے ان کے تمام دفاتر کی لسٹ مانگی ہے ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی سے ایک پیسہ بھی باہر نہیں جائے گا ، ہم نے ایک پراجیکٹ مینجمنٹ سسٹم بنایا ہے ، گرین لائن منصوبے سے عوام زبردست ماحول میں سفر کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…