جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

’’بلاول بھٹو کے ایک تیر سے دو شکار‘‘

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

مانسہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان صاحب خود کہتے ہیں لیڈر کو صادق اور امین ہونا چاہیے مگر جب یہ خطاب کرتے ہیں تو عوام سے نیا جھوٹ بولتے ہیں، خیبرپختونخوا کا تعلیمی نظام تباہ ہوگیا مگر عمران خان کے ساتھیوں کے نجی اسکول ترقی کررہے ہیں، نواز شریف خود کو معصوم ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں

مگر ایسا نہیں ہے۔مانسہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کہہ رہے ہیں کے پی کے میں دیے جانے والے ٹھیکوں سے خان صاحب کا کچن اور جہانگیر ترین کا جہاز چل رہا ہے، صحت کے نظام کو پرائیوٹائز کردیا گیا اور اسکولوں کا سرکاری نظام بھی مکمل تباہ کردیا گیا، کے پی کے حکومت نے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نصرت بھٹو کینسر اسپتال بند کروایا۔اگر آپ نصرت بھٹو کی بجائے شوکت خانم کا نام رکھنا چاہتے تھے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ ہمارے نزدیک مائیں سانجھی ہوتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کی مخالفت کی اور شدت پسندوں کو اپنا بھائی کہا، عوام کو سب یاد ہے اور انہوں نے آپ کی کارکردگی دیکھ کر آپ کا مکروہ چہرہ دیکھا لیا ہے، عمران خان صاحب آپ نے صوبے کے عوام کی حمایت میں کبھی آواز بلند نہیں کی اور نہ ہی اُن کے شناختی کارڈ بلاک ہونے پر کوئی آواز اٹھائی۔بلاول بھٹو نے ایک بار پھر کہا کہ عوام سمجھ چکے ہیں کہ تحریک انصاف اور عمران خان نے انہیں صرف استعمال کیا، 2018 میرا پہلا الیکشن اور عمران خان کا آخری الیکشن ہوگا۔مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں صاحب نے جی ٹی روڈ پر تماشا لگایا اور اپنے

آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی، میاں صاحب آپ کو سپریم کورٹ نے ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دیا ہے آپ شکل سے معصوم لگتے ہو مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔بلاول نے کہا کہ جب بھی نوازشریف کے تخت کو خطرہ پیش آیا انہوں نے پارلیمنٹ کی طرف دیکھنا شروع کیا اور جب حالات ٹھیک رہے تو ایوان میں آنا تک گوارا نہیں کیا، عوام سے ووٹ لے کر نواز حکومت نے

غریبوں کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ لوٹ کھسوٹ کے نظام کو تقویت دی۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک طرف نواز شریف اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے عوام کو سڑکوں پر لارہے ہیں تو عمران خان آئین میں ترمیم کے خلاف عوام کو سڑک پر لانے کا عندیہ دے چکےہیں، یہ دونوں جماعتیں اقتدار کی ہوس میں ہیں اور کرسی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے

پاس منشور ہے اور عوامی فلاح کے منصوبے ہیں۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہم آئندہ انتخابات میں بھرپور تیاری کے ساتھ اتریں گے اور غریب، مزدور، کسان کو ریلیف فراہم کریں گے، غربت کا خاتمہ کریں گے، نوجوانوں کو روزگار اور عورتوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے کیونکہ میں اقتدار غریبوں اور عوام کے لیے چاہتا ہوں۔چیئرمین پی پی نے مزید کہا کہ اگر عوام نے میرا ساتھ دیا تو میں بھی انہیں مایوس نہیں کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…