جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

’’بلاول بھٹو کے ایک تیر سے دو شکار‘‘

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

مانسہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان صاحب خود کہتے ہیں لیڈر کو صادق اور امین ہونا چاہیے مگر جب یہ خطاب کرتے ہیں تو عوام سے نیا جھوٹ بولتے ہیں، خیبرپختونخوا کا تعلیمی نظام تباہ ہوگیا مگر عمران خان کے ساتھیوں کے نجی اسکول ترقی کررہے ہیں، نواز شریف خود کو معصوم ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں

مگر ایسا نہیں ہے۔مانسہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کہہ رہے ہیں کے پی کے میں دیے جانے والے ٹھیکوں سے خان صاحب کا کچن اور جہانگیر ترین کا جہاز چل رہا ہے، صحت کے نظام کو پرائیوٹائز کردیا گیا اور اسکولوں کا سرکاری نظام بھی مکمل تباہ کردیا گیا، کے پی کے حکومت نے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نصرت بھٹو کینسر اسپتال بند کروایا۔اگر آپ نصرت بھٹو کی بجائے شوکت خانم کا نام رکھنا چاہتے تھے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ ہمارے نزدیک مائیں سانجھی ہوتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کی مخالفت کی اور شدت پسندوں کو اپنا بھائی کہا، عوام کو سب یاد ہے اور انہوں نے آپ کی کارکردگی دیکھ کر آپ کا مکروہ چہرہ دیکھا لیا ہے، عمران خان صاحب آپ نے صوبے کے عوام کی حمایت میں کبھی آواز بلند نہیں کی اور نہ ہی اُن کے شناختی کارڈ بلاک ہونے پر کوئی آواز اٹھائی۔بلاول بھٹو نے ایک بار پھر کہا کہ عوام سمجھ چکے ہیں کہ تحریک انصاف اور عمران خان نے انہیں صرف استعمال کیا، 2018 میرا پہلا الیکشن اور عمران خان کا آخری الیکشن ہوگا۔مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں صاحب نے جی ٹی روڈ پر تماشا لگایا اور اپنے

آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی، میاں صاحب آپ کو سپریم کورٹ نے ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دیا ہے آپ شکل سے معصوم لگتے ہو مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔بلاول نے کہا کہ جب بھی نوازشریف کے تخت کو خطرہ پیش آیا انہوں نے پارلیمنٹ کی طرف دیکھنا شروع کیا اور جب حالات ٹھیک رہے تو ایوان میں آنا تک گوارا نہیں کیا، عوام سے ووٹ لے کر نواز حکومت نے

غریبوں کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ لوٹ کھسوٹ کے نظام کو تقویت دی۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک طرف نواز شریف اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے عوام کو سڑکوں پر لارہے ہیں تو عمران خان آئین میں ترمیم کے خلاف عوام کو سڑک پر لانے کا عندیہ دے چکےہیں، یہ دونوں جماعتیں اقتدار کی ہوس میں ہیں اور کرسی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے

پاس منشور ہے اور عوامی فلاح کے منصوبے ہیں۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہم آئندہ انتخابات میں بھرپور تیاری کے ساتھ اتریں گے اور غریب، مزدور، کسان کو ریلیف فراہم کریں گے، غربت کا خاتمہ کریں گے، نوجوانوں کو روزگار اور عورتوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے کیونکہ میں اقتدار غریبوں اور عوام کے لیے چاہتا ہوں۔چیئرمین پی پی نے مزید کہا کہ اگر عوام نے میرا ساتھ دیا تو میں بھی انہیں مایوس نہیں کروں گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…