ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کے استقبال کیلئے کن سے بار بار رقم مانگی جاتی رہی جس پر وہ شخصیات تنگ آ کر غائب ہو گئیں؟ اہم انکشافات!!

datetime 13  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل 92 نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ نا اہل سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لاہور آمد پر انکے استقبال کیلئے تاجروں سے بڑی رقوم کا مطالبہ کیا جاتا رہا جس پر وہ تنگ آ کر غائب ہو گئے ۔رپورٹ کے مطابق بار بار رقم کے مطالبہ سے تنگ آکر مسلم لیگ(ن) ٹریڈرز ونگ کے عہدیدار غائب ہوگئے،کوئی ملک سے باہر تو متعدد نے میاں نوازشریف کے استقبال کے بجائے

مری،کاغان،ناران اور دیگر شمالی علاقہ جات کی سیر کو ترجیح دی،صرف چند عہدیدار قیادت کو خوش کرنے کیلئے آزادی چوک پہنچے۔دوسری جانب نواز شریف کی ریلی کے دوران عابد شیر علی کی آمد کے موقع پر چور آیا چور آیا کے نعرے لگ گئے سابق وزیر اعظم کی گاڑی کے قریب بھی چور چور کے نعرے لگتے رہے۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم کی ریلی جب لاہور پہنچی تو وہاں موجود کچھ لوگوں نے عابد شیر علی کو دیکھ کر دیکھو دیکھو کون آیا، چور آیا چور آیا کے نعرے بلند کردیئے۔عابد شیر علی نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے نعرے لگانے والوں کو نظر انداز کردیا، اور رسمی انداز میں کارکنان کے سامنے ہاتھ ہلاتے رہے۔علاوہ ازیں اس سے قبل وزیر توانائی عابد شیرعلی نے اسلام آباد سے نکلنے والی ریلی میں اپنی پوری توانائی صرف کردی۔ شیرآیا شیرآیا کے نعرے لگاتے اور دھوپ میں سفر کرتے عابد شیر علی کا رنگ بھی کالا پڑ گیا۔وزیر توانائی مختلف مقامات پر گاڑی کی چھت پرکھڑے ہوکر ہاتھ لہراتے ہوئے لیگیوں کا لہو گرماتے رہے، عابد شیر علی ریلی کے پہلے روز سے ہی فُل چارج دکھائی دیئے، پنڈی سے لاہور تک گاڑی پر چڑھے لوگوں میں بجلی بھرتے رہے۔بجلی بھرے وزیر کہیں جوش میں ہو ش نہ کھو بیٹھیں اس لئے ریلی میں موجود گارڈ کبھی ان کی قمیض تو کبھی ٹانگیں پکڑ کران کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے، عابد شیر علی نے نواز ریلی میں اتنی سیاست چمکائی کہ ان کا رنگ بھی کالا پڑ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…