ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’نواز شریف کا سیاسی مظلوم بننے کا خواب چکنا چور‘‘

datetime 11  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کا سابق وزیراعظم نواز شریف کا دعویٰ بے بنیاد، پاکستان کا انگریزی روزنامہ ’’پاکستان ٹوڈے‘‘کی رپورٹ میں ، دستاویزات سامنے لے آیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے انگریزی روزنامے ’’پاکستان ٹوڈے‘‘نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے اپنے

بیـٹے کی کمپنی ایف زیڈای سے تنخواہ لینے اور انہیں گوشواروں میں شو نہ کرنے پر نا اہل قرار دیا ہے جس پر نواز شریف دعویٰ کرتے نـظر آتے ہیں کہ تنخواہ نہیں لی جو کہ بالکل بے بنیاد ہے۔ اس حوالے سے اخبار کچھ دستاویزات بھی سامنے لایا ہے اور ان دستاویزات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ” اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی)“ طریقے سے فروری سے جولائی 2013 تک (6 ماہ)باقاعدگی سے تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں۔واضح رہے کہ ” اوور دی کاؤنٹر“لین دین کا براہ راست طریقہ ہے اور اس میں کسی ادارے یا ایکسچینج کی نگرانی نہیں ہوتی۔ رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے اپنے بیٹے حسن نواز کی کمپنی کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر فروری 2013 کی تنخواہ او ٹی سی سے 6 مارچ 2013 کو وصول کی جبکہ مارچ کی تنخواہ 10 اپریل کو ، اپریل کی تنخواہ 7 مئی کو ، مئی کی تنخواہ 11 جون کو ، جون کی تنخواہ یکم جولائی کو اور جولائی 2013 کی تنخواہ 11 اگست 2013 کو وصول کی۔نواز شریف کے تنخواہ وصول نہ کرنے کے دعووں کے ساتھ ساتھ ان کے وکیل خواجہ حارث نے بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران تحریری جواب میں کہا تھا کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے کی کمپنی کے چیئرمین کے طور پر کسی قسم کی تنخواہ وصول نہیں کی۔

نئی دستاویزات کے مطابق نواز شریف کی جانب سے اگست تا نومبر 2013 کی تنخواہیں وصول نہیں کی گئیں تاہم یہ نئی دستاویزات اس بات کو بھی ثابت کرتی ہیں کہ وہ عوام میں غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں جبکہ انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی حقائق چھپائے اور انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ان تنخواہوں کا ذکر نہیں کیا۔خیال رہے کہ

’’پاکستان ٹوڈے ‘‘نے نواز شریف کے دعویٰ کے خلاف دستاویزات کا ذکر تو اپنی رپورٹ میں کیا ہے تاہم اس حوالے سے دستاویزات رپورٹ یا ویب سائٹ پر شائع نہیں کی گئیں۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…