ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

شہباز شریف جی ٹی روڈ ریلی کے حق میں نہیں تھے، نواز شریف کی گاڑی چوہدری نثار کے حلقے سے تیز رفتاری سے کیوں نکلی؟

datetime 11  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمد قریشی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کی حالیہ ٹوئیٹ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ شہباز شریف جی ٹی روڈ ریلی کے حق میں نہیں تھے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ مسلم لیگ (ن) دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے، جس میں ایک کا خیال ہے کہ

موجودہ راستہ سیاسی خودکشی ہے جبکہ دوسرا نواز شریف کی اس حکمتِ عملی پر ان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اسی طرح کچھ لوگ قدم بڑھاؤ ہم تمارے ساتھ ہیں کی پالیسی پر گامزن ہوئے تھے، لیکن جب پیچھے دیکھا تو کوئی موجود نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح راولپنڈی سے نکلنے کے بعد نواز شریف کی گاڑی نے رفتار پکڑی، وہ بظاہر چوہدری نثار کو ایک پیغام تھا کیونکہ ان کا قافلہ چوہدری نثار کے حلقے کو چھوڑ کر آگے کی جانب گامزن ہوا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ کل تک (ن) لیگ والے چوہدری نثار کی ریلی میں غیر حاضری کی وجہ ان کی کمر میں تکلیف بتا رہے تھے، لیکن آج خود چوہدری نثار نے اپنے بیان سے واضح کردیا ہے کہ وہ نواز شریف کی اس پالیسی کے ساتھ نہیں چلنا چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے اور جو لوگ سازشوں کی بات کرتے ہیں وہ خود اس طرح کے کام کرکے جمہوریت کو تباہی کی جانب لے کر جانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد سبکدوش ہونے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف اسلام آباد سے اپنے آبائی شہر لاہور واپسی کیلئے ریلی کی صورت میں سفر کر رہے ہیں۔تاہم نااہلی کے بعد حکمراں جماعت کے اس گرینڈ پاور شو پر جہاں اپوزیشن کی جانب سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا

جارہا ہے، وہیں اس ریلی میں سرکاری مشینری کے استعمال پر بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا۔

نااہلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے اور بعد ازاں وزیراعظم ہاؤس خالی کرکے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ 30 جولائی کو سیاحتی مقام مری روانہ ہوگئے تھے۔مری میں ایک ہفتہ قیام کے بعد وہ 6 اگست کو اسلام آباد پہنچے جہاں سے اب وہ ریلی کی صورت میں لاہور کی جانب گامزن ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…