ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا میں حالات خراب،متعددجاں بحق و زخمی

datetime 3  اگست‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی)صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) اور صوبائی تعمیر نو ،بحالی و آباد کاری اتھارٹی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یکم اگست سے3اگست2017کے دوران خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں موسلا دھار بارشوں اور طوفان باد و باران کے باعث ایک خاتون اور دو بچوں سمیت پانچ افراد کی اموات اور سات خواتین کے زخمی ہونے کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا مدت کے دوران متاثرہ اضلاع میں لوگوں کی دکانوں اور جائیداد کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے پر پیش رفت جاری ہے اس سلسلے میں اہم واقعہ ضلع چترال کی یونین کونسل سفید اراکری میں پیش آیا جہاں2۔اگست کو شام چھ بجے گلیشئر پگلنے سے سیلاب پھوٹ پڑا جس سے جیپ والی سڑک سیلاب میں بہہ گئی جبکہ مذکورہ سیلاب سے چار عدد مویشی فارمز،دو پن چکیاں اور سات آبپاشی کی چینلز بھی سیلاب میں بہہ گئیں۔سیلاب کے باعث مستوج سے شندور روڈ دو مقامات شہیداز اور کچگول کے مقامات پر بند ہو گئی جبکہ مذکورہ سڑک کھولنے کے لئے کوششیں جاری ہیں اس کے علاوہ 1اور2اگست کی رات کو سیلاب کے باعث مہٹنگ نالہ کے مقام پر یخون روڈ بند ہو گئی جس کو کھولنے کے لئے مشینری فعال بنا دی گئی ہے۔دریں اثناء ضلع چارسدہ میں شبقدر بازار اور گرد و نواح کے علاقوں میں مکانات میں پانی آنے میں کمی ہوئی ہے اور علاقے میں ریسکیو کی کوششیں مکمل ہو گئی ہیں جبکہ شبقدر بازار کے آس پاس مکانوں سے پانی نکالنے کے کاموں پر پیش رفت جاری ہے۔اس کے علاوہ پکے پکائے کھانے متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں جبکہ زیادہ تر متاثرہ خاندانوں کو دس عدد خیمے بھی فراہم کئے گئے ہیں اور مجموعی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے نے ضلع چارسدہ میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کے لئے ریسکیو1122کو12عدد ربڑ کی کشتیاں بھی فراہم کی ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ افراد کو خیمے فراہم کئے گئے ہیں اور ان میں پکے پکائے کھانے تقسیم کئے گئے ہیں جبکہ پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے صوبائی ایمر جنسی آپریشن سنٹرکو24گھنٹوں کے لئے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے

اور وہ فوری کارروائی کے لئے ریسکیو اور دیگر امدادی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے تمام اضلاع کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے جبکہ پی ڈی ایم اے اور PEOCکے ایمر جنسی لینڈ لائن فون نمبرزکے بارے میں الیکٹرانک میڈیااور اخبارات کے ذریعے متعلقہ مقامی لوگوں کوبھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…