بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

جمعتہ المبارک کا دن عدالتی تاریخ کا بڑا دن،کون کون سے اہم فیصلے سنائے گئے؟حیرت انگیزتفصیلات سامنے آگئیں

datetime 28  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)پاناما کیس سے قبل پاکستان کی عدالت عظمیٰ جمعہ کے روز ان تاریخی کیسوں کا فیصلہ بھی سنا چکی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پرویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر ججز کیس(پی سی او ججز کیس)کا فیصلہ بھی عدالت عظمیٰ نے 31جولائی ٗ2009 کو جمعہ کے روز سنایا تھا۔عدالت عظمیٰ نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے 3نومبر 2007کے اقدامات کو آئین کے آرٹیکل 279 کے تحت غیرآئینی اور غیر قانونی قرار دیا تھا

۔3نومبر2007 کو جنرل مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔عدالت عظمیٰ نے ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا اور خاص طور پر کہا تھا کہ ججوں کا ہٹایا جانا غیر آئینی اور غیر قانونی تھا ٗ3نومبر2007 سے 24مارچ ٗ2008 تک جسٹس ڈوگر اور تمام ججوں کی تعیناتیوں کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔مشرف نے ججوں کی تعداد میں فنانس بل کی مدد سے اضافہ کیا، اسے بھی غیر آئینی قرار دیا گیا اور ججوں کی تعداد 17کردی گئی۔فیصلے سے نئی حکومت کے قانون کے مطابق ہونے کا جواز متاثر نہیں ہوا اور نہ ہی زرداری کا صدر کی حیثیت سے اٹھایا گیا حلف غیر قانونی ہوا۔فیصلے میں پی سی او کے معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوادیا گیا۔بیس جولائی2007(جمعہ)کو عدالت عظمیٰ کے 13رکنی بینچ نے اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان، افتخار چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کو منسوخ کردیا تھااور چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے جانے کے صدارتی عمل کو غلط قرار دے دیا تھا۔اس فیصلے کے نتیجے میں چیف جسٹس ٗ جنہیں 9مارچ 2007کو پاکستان کے سربراہ مملکت جنرل مشرف نے معزول کردیا تھاوہ اپنے عہدے پر بحال ہوگئے تھے۔10۔3کی اکثریت سے (جبکہ جسٹس فقیر محمد کھوکر، جسٹس جاوید بوتر اور جسٹس سید سعید اشد نے اختلاف کیا)2007کے اصل آئینی پٹیشن نمبر21جو کہ چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فائل کی تھی ٗ عدالت کی جانب سے نپٹا دی گئی تھی۔اٹھائیس ستمبر 2007(جمعہ) کے روز عدالت عظمیٰ نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو یونی فارم میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔

عدالت نے حزب اختلاف کی پٹیشنز میں سنوائی ختم کردی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ مشرف ، جو کہ امریکا کا ایک اہم رفیق ہے۔اس نے اکتوبر1999 میں 8برس قبل بغاوت کی قیاد ت کی تھی۔ وہ 6اکتوبر 2007 کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نااہل ہے جبکہ وہ اس وقت بحیثیت آرمی چیف بھی فرائض انجام دے رہے تھے۔مشرف نے عدالت عظمیٰ سے ٹکر لے کر غلطی کی تھی کیوں کہ ا ن کے مارچ2007 کے بے وقوفانہ اقدام جس میں ملک کے چیف جسٹس کو معزول کرنا تھا، اس کے سبب بڑے پیمانے پر احتجا ج شروع ہوگئے ، نتیجتاً صدر کی مقبولیت کم ہوتی چلی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…