ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی اہم اسمبلی میں بھنگ کی مختلف اقسام کے چرچے ،صوفی بوٹی قراردیدیاگیا،قانون سازی کیلئے قوم سے ووٹ لیکرآنے والوں نے شرمناک مثال قائم کردی

datetime 27  جولائی  2017 |

کراچی (آئی این پی ) رکن سندھ اسمبلی صابر قائم خانی نے بھنگ کی تعریف میں آسمان وزمین کے قلابے ملاتے ہوئے اسے ’صوفی بوٹی ‘ قرار دیا اور اور فرمایا کہ صوفی بھنگ کو نشہ نہیں بلکہ سکون کی جڑی بوٹی قرار دیتے ہیں ،موصوف رکن اسمبلی نے اس خواہش کا بھی بر ملااظہار کیا کہ انہیں موقعہ ملا تو وہ بھنگ پی کر ضرور دیکھیں گے ، لیکن یہ ساری گفتگو وہ گلی کوچے یا بازار میں نہیں کررہے تھے بلکہ انہوں نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کیا ،

اسندھ اسمبلی کے اجلاس اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور ممبر سندھ اسمبلی اور ایم کیوایم رہنما صابر قائم خانی کے درمیان بھنگ اور نشے کی دیگر اقسام پر دلچسپ جملوں اور تبصروں نے اسمبلی کو عوامی مسائل پر سنجیدہ گفتگو کے پلیٹ فارم کے بجائے عوامی ٹیکس پر چلنے والی ’وی وی آئی تفریح گا ہ ‘ میں تبدیل کردیا ۔ یہ سن کر ایسا لگتا ہے جیسے سندھ کے تمام مسائل ختم ہوگئے ہیں اس لیے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں مسائل کے بجائے اسپیکر سندھ اسمبلی اور صابر قائم خانی کے درمیان بھنگ اور نشے کی دیگر اقسام پر دلچسپ تبصروں اور جملوں اک تبادلہ ہوتا رہا ، سندھ اسمبلی کے ممبر صابر قائم خانی نے بھنگ کو صوفی بوٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوفی بھنگ کو نشہ نہیں بلکہ سکون کی جڑی بوٹی قرار دیتے ہے ، اب تو بھنگ کے پیڑ بن گئے ہیں ۔ اسلام آبا د میں جنگلی بھنگ بہت لگی ہوئی ہے ، وہاں بھنگ کی بے شمار نسل ہوتی ہے،ان کے تبصرے پر اسپیکر سندھ اسمبلی ے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی بھنگ پی ہے جس پر صابر قائم خانی ے جواب دیا کہ نہیں میں نے کبھی بھنگ نہیں پی کبھی موقع ہی نہیں ملا۔ تاہم موقع ملا تو دیکھا جاسکتا ہے ۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نعیم کھرل کا کنا تھا کہ پی ایم ایف ایل کو ن سا نشہ ہے ،اس طرح کے ناموں کی تو سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں جس پر پی پی پی کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے وزیر مکیش چاولہ نے کہا کہ یہ کوئی پارٹی نہیں ہے ۔

شاید جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ منتخب ارکان سندھ اسمبلی ایوان میں کھڑے ہوکر بھنگ پر آزادانہ گفتگو کرسکتے ہیں جبکہ عوامی مسائل کو بڑے آرام سے پس پشت ڈال سکتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…