منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے والے ججوں کو کیسے نوازا گیا، سینئرصحافی حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 27  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کی عدلیہ اور آج سے 10سال پہلے کی عدلیہ میں بہت فرق ہے، جس جج نے نواز شریف کے حق میں فیـصلے دئیے ان میں سے کسی کو صدر، کسی کو گورنر اور کسی کو سینیٹر بنا دیا گیا، اربوں کیا کھربوں روپے بھی موجودہ عدلیہ پر اثرانداز نہیں ہو سکتے، معروف صحافی حامد میر کی نجی ٹی وی سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی 24نیوز

سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر نے نجی ٹی 24نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی عدلیہ اور آج سے 10سال پہلے کی عدلیہ میں بہت فرق ہے اربوں کیا کھربوں روپے بھی موجودہ عدلیہ پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں یقیناََ عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور جن ججوں نے نواز شریف کے حق میں فیصلے دئیے ان میں سے کسی کو صدر، کسی کو گورنر اور کسی کو سینیٹر بنادیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جائے کہ جس جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد نواز شریف نے سرکاری عہدے دئیے وہ ایسے جج تھے جنہوں نے ان کے حق میں فیصلے دئیے تھے، حامد میر کا کہنا تھا کہ آج کی عدلیہ ایک مختلف عدلیہ ہے ہمیں آج کی عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہےاور ہمیں امید ہے کہ اربوں کیا کھربوں روپے بھی آج کی عدلیہ پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔جس جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد نواز شریف نے سرکاری عہدے دئیے وہ ایسے جج تھے جنہوں نے ان کے حق میں فیصلے دئیے تھے، حامد میر کا کہنا تھا کہ آج کی عدلیہ ایک مختلف عدلیہ ہے ہمیں آج کی عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہےاور ہمیں امید ہے کہ اربوں کیا کھربوں روپے بھی آج کی عدلیہ پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…