جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’نواز شریف کو جانے دو۔۔شہباز شریف کو آنے دو‘‘ لاہور شہر میں پراسرار بینرز آویزاں کر کے ملکی سیاست اور ن لیگ میں کھلبلی مچا دینے والا کون نکلا؟

datetime 26  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شہر میں ”میاں نواز شریف جانے دو ۔میاں شہباز شریف کو آنے دو “کے بینرز لگانے کے پیچھے خواجہ سعد رفیق سے ناراض لیگی کارکن نکلے ،سینکڑوں ناراض کارکنوں نے جلد پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ خبریں کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور شہر میں پراسرار بینرز آویزاں کرنے والے حکمران

جماعت کی کسی مخالف جماعت سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان کا تعلق حکمران جماعت ن لیگ سے ہے۔ سلطان پورہ کے رہائشی اور مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے سابق عہدیدار حافظ طارق کہا کہنا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کی جانب سے کارکنوں کو استعمال کرنے اور قائد میاں نواز شریف کو گمراہ کرتے ہوئے اس مقام پر لانے کے ذمہ دار ہیں تاہم وقت کی ضرورت ہے کہ میاں نواز شریف اب آرام کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت کو سنبھالیں اور چند رو ز تک پریس کلب میں 100لیگی کارکنوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس بھی کی جائے گی جس میں میاں شہباز شریف کو وزیراعظم کا عہدہ دینے کے حوالے سے پرزور اپیل کریں گے ان کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف ہرگز نہیں ہم ان کے کارکن ہیں اور اس وقت انہیں آرام کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ حافظ طارق ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے لاہور شہر میں بینرز آویزاں کر کے نہ صرف حکمران جماعت میں کھلبلی مچا دی تھی بلکہ شہر کی انتظامیہ کی بھی دوڑیں لگوادیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف ہرگز نہیں ہم ان کے کارکن ہیں اور اس وقت انہیں آرام کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ حافظ طارق ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے لاہور شہر میں بینرز آویزاں کر کے نہ صرف حکمران جماعت میں کھلبلی مچا دی تھی بلکہ شہر کی انتظامیہ کی بھی دوڑیں لگوادیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…