جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

’’نواز شریف کو جانے دو۔۔شہباز شریف کو آنے دو‘‘ لاہور شہر میں پراسرار بینرز آویزاں کر کے ملکی سیاست اور ن لیگ میں کھلبلی مچا دینے والا کون نکلا؟

datetime 26  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شہر میں ”میاں نواز شریف جانے دو ۔میاں شہباز شریف کو آنے دو “کے بینرز لگانے کے پیچھے خواجہ سعد رفیق سے ناراض لیگی کارکن نکلے ،سینکڑوں ناراض کارکنوں نے جلد پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ خبریں کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور شہر میں پراسرار بینرز آویزاں کرنے والے حکمران

جماعت کی کسی مخالف جماعت سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان کا تعلق حکمران جماعت ن لیگ سے ہے۔ سلطان پورہ کے رہائشی اور مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے سابق عہدیدار حافظ طارق کہا کہنا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کی جانب سے کارکنوں کو استعمال کرنے اور قائد میاں نواز شریف کو گمراہ کرتے ہوئے اس مقام پر لانے کے ذمہ دار ہیں تاہم وقت کی ضرورت ہے کہ میاں نواز شریف اب آرام کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت کو سنبھالیں اور چند رو ز تک پریس کلب میں 100لیگی کارکنوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس بھی کی جائے گی جس میں میاں شہباز شریف کو وزیراعظم کا عہدہ دینے کے حوالے سے پرزور اپیل کریں گے ان کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف ہرگز نہیں ہم ان کے کارکن ہیں اور اس وقت انہیں آرام کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ حافظ طارق ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے لاہور شہر میں بینرز آویزاں کر کے نہ صرف حکمران جماعت میں کھلبلی مچا دی تھی بلکہ شہر کی انتظامیہ کی بھی دوڑیں لگوادیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف ہرگز نہیں ہم ان کے کارکن ہیں اور اس وقت انہیں آرام کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ حافظ طارق ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے لاہور شہر میں بینرز آویزاں کر کے نہ صرف حکمران جماعت میں کھلبلی مچا دی تھی بلکہ شہر کی انتظامیہ کی بھی دوڑیں لگوادیں۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…