بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

میر شکیل الرحمن نے عدالت کے باہر تو جو کہا مگر اندر کیا کہتے رہے؟ ججز نے ان سے کیا کہا؟خبر نے کھلبلی مچا دی

datetime 25  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)غلط رپورٹنگ ہوئی،ذرائع کے حوالے سے خبریں شائع کی گئیں جو کہ غلط تھیں، ججز کے ریمارکس،توہین عدالت کیس میں روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن ، ان کے بھائی اور رپورٹراحمد نورانی کی سپریم کورٹ میں بنچ کے سامنے حاضری، سب سے زیادہ اشتہارات خیبرپختونخواہ حکومت دیتی ہے، اشتہارات کا ریکارڈ طلب کرنے پر

میر شکیل الرحمن کا جواب۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آج روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن اور رپورٹر احمد نورانی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی ہے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل ہیں جبکہ بنچ کے دیگر دو ممبران میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔ توہین عدالت کیس میں روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن ان کے بھائی اور رپورٹر احمد نورانی عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ذرائع کے حوالے سے خبریں شائع کی گئیں جو کہ غلط تھیں، غلط رپورٹنگ کی گئی۔ روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن نے عدالت میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں عدالت سے معافی کا طلبگار ہوں ۔اخبار کے ایڈیٹر کے مطابق خبریں درست ہیںاور اگر خبریں غلط ہیں تو آپ مجھے بتائیں کہ کہاں غلطی ہوئی میں رپورٹر کے خلاف سخت ایکشن لوں گا۔عدالت کی جانب سےجنگ اخبار کا اشتہارات کا تین ماہ کا ریکارڈ طلب کرنے پر میر شکیل الرحمن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ حکومت ہمیں سب سے زیادہ اشتہارات دیتی ہے۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ کیا جواب داخل کرایا گیا ہے؟۔عدالت نے سماعت 22اگست تک ملتوی کرتے ہوئےجواب دوبارہ داخل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور کہا ہے کہ اگر مزید کوئی دستاویزات جمع کروانا چاہتے ہیں تو کروا دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…