اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

میر شکیل الرحمن نے عدالت کے باہر تو جو کہا مگر اندر کیا کہتے رہے؟ ججز نے ان سے کیا کہا؟خبر نے کھلبلی مچا دی

datetime 25  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)غلط رپورٹنگ ہوئی،ذرائع کے حوالے سے خبریں شائع کی گئیں جو کہ غلط تھیں، ججز کے ریمارکس،توہین عدالت کیس میں روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن ، ان کے بھائی اور رپورٹراحمد نورانی کی سپریم کورٹ میں بنچ کے سامنے حاضری، سب سے زیادہ اشتہارات خیبرپختونخواہ حکومت دیتی ہے، اشتہارات کا ریکارڈ طلب کرنے پر

میر شکیل الرحمن کا جواب۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آج روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن اور رپورٹر احمد نورانی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی ہے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل ہیں جبکہ بنچ کے دیگر دو ممبران میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔ توہین عدالت کیس میں روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن ان کے بھائی اور رپورٹر احمد نورانی عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ذرائع کے حوالے سے خبریں شائع کی گئیں جو کہ غلط تھیں، غلط رپورٹنگ کی گئی۔ روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن نے عدالت میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں عدالت سے معافی کا طلبگار ہوں ۔اخبار کے ایڈیٹر کے مطابق خبریں درست ہیںاور اگر خبریں غلط ہیں تو آپ مجھے بتائیں کہ کہاں غلطی ہوئی میں رپورٹر کے خلاف سخت ایکشن لوں گا۔عدالت کی جانب سےجنگ اخبار کا اشتہارات کا تین ماہ کا ریکارڈ طلب کرنے پر میر شکیل الرحمن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ حکومت ہمیں سب سے زیادہ اشتہارات دیتی ہے۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ کیا جواب داخل کرایا گیا ہے؟۔عدالت نے سماعت 22اگست تک ملتوی کرتے ہوئےجواب دوبارہ داخل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور کہا ہے کہ اگر مزید کوئی دستاویزات جمع کروانا چاہتے ہیں تو کروا دیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…