جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن آپے سے باہر ہو گئے،سپریم کورٹ کے جج کو کیا دھمکی دے ڈالی؟

datetime 25  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)روزنامہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن آپے سے باہر ہو گئے، ججز کے مبینہ ریمارکس پر صحافی کے سوال پوچھنے پر جج پر مقدمہ کرنے کی خواہش کا اظہار، بھائی اور اپنے وکلا کے روکنے پر بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا۔ تفصیلات کے مطابق توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سامنے پیش ہونے والے روزنامہ جنگ کے

مالک میر شکیل الرحمن سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے احاطہ میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے آپے سے باہر ہو گئے، صحافی کی جانب سے ایک جج کے مبینہ ریمارکس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے میر شکیل الرحمن نے کہا کہ اگر جج نے جیسا کہ آپ بیان کر رہے ہیں ریمارکس دئیے ہیں تو یہ نہایت بیہودہ بات کی ہے اور میرا بس چلے تو میں اس جج پر مقدمہ کروں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی بات میں نے نہیں سنی اور اگر ایسا کسی جج کی جانب سے کہا گیا ہے تو میرابس چلے تومیں اس جج پر مقدمہ کروں۔ اس دوران میر شکیل الرحمن کے بھائی اور ان کے وکیل مسلسل انہیں ایسا کہنے سے روکتے رہے تاہم وہ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد ہی وہاں سے روانہ ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی بات میں نے نہیں سنی اور اگر ایسا کسی جج کی جانب سے کہا گیا ہے تو میرابس چلے تومیں اس جج پر مقدمہ کروں۔ اس دوران میر شکیل الرحمن کے بھائی اور ان کے وکیل مسلسل انہیں ایسا کہنے سے روکتے رہے تاہم وہ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد ہی وہاں سے روانہ ہوئےصحافی نے ان سے کیا سوال پوچھا اور انہوں نے کیا جواب دیا۔۔ویڈیو ملاحظہ کریں!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…