جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

جے آئی ٹی پر اعتراضات‘ (ن) لیگ نے سپریم کورٹ میں کیا کیا الزامات لگا دیئے؟

datetime 17  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما کیس کا معاملہ حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس کے لیے سپریم میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پہلی اہم ترین سماعت شروع ہوگئی ہے۔شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرادیئے ۔پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی

جس میں شریف خاندان کے معلوم ذرائع آمدن اور طرز زندگی میں تضاد بتایا گیا تھا۔سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت کررہا ہے جب کہ جسٹس عظمت سعید شیخ اور اعجاز الاحسن بینچ کا حصہ ہیں۔عدالت عظمیٰ میں سماعت کے موقع پر حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)، فریقین جماعتوں کے رہنماؤں سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔اس موقع پر سکیورٹی کےانتہائی سخت انتظامات کیےگئے ہیں۔ پولیس کے سینکڑوں اہلکار عدالت عظمیٰ کے اطراف سیکیورٹی کے لیے مامور ہیں جب کہ کسی غیر متعلقہ شخص کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔پاناما حکمران مسلم لیگ (ن) اس کیس پر اپنی قانونی لڑائی لڑنے کو تیار ہے جس کے لیے حکومت نے قانونی ماہرین سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرادیئے ہیں۔ شریف خاندان کی جانب سے دائر اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی کا رویہ غیر منصفانہ تھا اور اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا لہٰذا عدالت جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرے۔کیس کے فریقین جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنی اپنی تشریحات کررہے ہیں جب کہ فریقین سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کررکھا ہے جب کہ عوامی نیشنل پارٹی اور آفتاب شیر پاؤ نے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کردیا۔

تاہم وزیراعظم نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔وزیراعظم کو اپنی کابینہ سے بھی بھرپور اعتماد حاصل ہے اور کابینہ نے انہیں استعفیٰ نہ دینے اور ڈٹ جانے کا مشورہ دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…