جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

حکومت کا بڑا اعتراف، عمران خان کو اب تک کی سب سے بڑی پیشکش کردی

datetime 14  جولائی  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سڑکوں پر اور دوسری جگہ پر سیاسی ڈرامے کرنے کی بجائے اگلے الیکشن کو شفاف اور پر امن رکھنے کیلئے عمران خان صاحب آئیں اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر ا نتخابی اصلاحات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دیں ،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایف زیڈ ای کیپیٹل وزیراعظم کے بیٹے کی کمپنی ہے، 2013کے مقابلے میں آج ہر کسی سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ آج ملک بہتر ہے، اب مزید 10مہینے ہی رہ گئے ہیں اگلے الیکشن میں اس لئے انتظار کریں،

کوئی کسی کے الزام پر عہدہ نہیں چھوڑتا، ہمارے تحفظات کے عین مطابق جے آئی ٹی رپورٹ جھوٹ اور تضادات کا مجموعہ نکلی، استعفیٰ دینا سیاسی خود کشی ہے، اس کا کوئی جواز نہیں، جے آئی ٹی نے بالکل بددیانتی کے ساتھ جے آئی ٹی رپورٹ بنائی ،جے آئی ٹی رپورٹ کی قانونی حیثیت ایک ضمنی کی بھی نہیں ، ہم عمران خان صاحب کو جوابدہ نہیں،سڑکوں پر اور دوسری جگہ پر سیاسی ڈرامے کرنے کی بجائے اگلے الیکشن کو شفاف اور پر امن رکھنے کیلئے عمران خان صاحب آئیں اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر الیکٹرول ریفارمز کے ایجنڈے کو فائنل کریں،تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی کو مائنس کیا جاتا ہے تو وہ پلس ہو جاتا ہے جو مائنس نواز شریف کو دیکھ رہے ہیں انہیں پلس نواز شریف کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ جمعہ کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ہم یہ جنگ عدالتوں میں لڑیں گے اور سازش کا مقابلہ کریں گے، عدالتوں میں ثابت کریں گے کہ یہ کیس بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی قانونی حیثیت ایک ضمنی کی بھی نہیں ہے، وزیراعظم ایف زیڈ ای کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی تھے، شیئر ہولڈر نہیں، منتخب حکومت کو عدالتی راستے کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کو ’’عدالتی کُو‘‘ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے حامیوں کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش کر رہے ہیں، کیا عمران خان کا عوام کو سڑکوں پر لانے کا پیغام دھمکی نہیں ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان ملک میں ترکی کی طرح فتح اللہ گولن ماڈل لاناچاہتے ہیں،2013میں ہم عمران خان کو نا اہل کروا سکتے تھے مگر نہیں کروایا،

الیکشن 2018میں اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر اور دوسری جگہ پر سیاسی ڈرامے کرنے کی بجائے اگلے الیکشن کو شفاف اور پر امن رکھنے کیلئے عمران خان صاحب آئیں اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر الیکٹرول ریفارمز کے ایجنڈے کو فائنل کریں، اس پر عملدرآمد کیلئے 6سے 8مہینے درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استعفیٰ دینا سیاسی خود کشی ہے، اس کا کوئی جواز نہیں، جے آئی ٹی نے بالکل بددیانتی کے ساتھ جے آئی ٹی رپورٹ بنائی ہے، ہم عمران خان صاحب کو جوابدہ نہیں ہیں ہم اپنے ووٹر کو جوابدہ ہیں،

جس نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ وزیراعظم اپنے عہدے کی مدت مکمل کریں۔ احسن اقبال نے کہا کہ جھوٹ کے پلندے پر استعفیٰ نہیں دیا جا سکتا، ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف ملے کیونکہ یہ مقدمہ پاکستان کیلئے بہت اہم ہے، ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف ہو گا کسی کی سیاسی پسند سے فیصلہ نہیں ہو گا،

عدالتیں جو ہیں وہ سوشل میڈیا کے دباؤ سے فیصلے نہیں کرتیں بلکہ آئین اور قانون پر فیصلے دیتی ہیں، اس لئے ہم اپنے مقدمے کو آئین اور قانون کے دائرے میں پیش کریں گے، اس کیلئے ہمارے قانونی ماہرین آپشنز پر غور کر رہے ہیں، ہمارے قانونی ماہرین ہمارے لئے جو راستہ تجویز کریں گے انشاء اللہ ہم اس پر عمل کریں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اگر عمران خان 2013کے الیکشن کے حوالے سے واقعی تحفظات رکھتے تھے تو انہیں دائیں باتیں چیزوں میں الجھ کر وقت ضائع کرنے کی بجائے انہیں آنا چاہیے اور آ کر الیکٹرول ریفارم کمیٹی میں بیٹھیں تا کہ ہم اس پر قانون سازی کر سکیں، ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی کسی کو مائنس کیا جاتا ہے تو وہ پلس ہو جاتا ہے جو مائنس نواز شریف کو دیکھ رہے ہیں انہیں پلس نواز شریف کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلا شبہ سی پیک بہت بڑا منصوبہ ہے جو اس خطے کی جیوپولیٹکس کو جیو اکنامکس میں تبدیل کرے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…