جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’عمران خان نا اہلی کیس‘‘ سپریم کورٹ سے آنیوالی خبر نےتحریک انصاف کی خوشیاں پھیکی کر دیں،کونسی دستاویزات طلب کر لی گئیں؟

datetime 12  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے عمران خان نا اہلی کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین سے ان کے لندن فلیٹ کی منی ٹریل، کرکٹ سے کمائی اور کرکٹ بورڈ سے حاصل کی گئی آمدنی کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین کو ان کے لندن فلیٹ کی منی ٹریل، کرکٹ سے کمائی اور

کرکٹ بورڈ سے حاصل کی گئی آمدنی کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے عمران خان سے 1973سے لیکر 1983تک کمائی کی بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نـثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ عمران خان کی نا اہلی کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جس میں تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے بھی درخواست دائر ہے۔ یہ درخواست ن لیگ کے حنیف عباسی کی طرف سے دائر کی گئی ہیں۔کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل انور منصور کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اگلی پیشی پر عمران خان کی وکیل پیش نہ ہوئے تو عدالت پھر عمران خان کو طلب کریگی۔عدالت نے سماعت کے دوران سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے لندن میں فلیٹ کی خریداری کے لیے رقم کس طرح ادا کی اس کی تفصیلات بھی بتائیں،اس موقع پر تحریک انصاف کے ایک اور وکیل نعیم بخاری نے ججز سے درخواست کی کہ عمران خان کے وکیل انور منصور اگر پیش نہیں ہوتے تو وہ دلائل دینے کیلئے تیار ہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ آج ہی کی بات نہیں بلکہ جب تک کیس کا فیصلہ سنا نہیں دیا جاتا تب تک پیش ہونا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ایک عوامی شخصیت ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ چوری کا سراغ لگایا جانا چاہیے تو یہی اصول ان پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اس موقع پر عدالت میں تحریک انصاف اور ن لیگ کے رہنما موجود تھے ، عدالت نے آئندہ سماعت 13جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…