جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

نوازشریف کا دبئی کی کمپنی سے 10ہزار درہم ماہانہ تنخواہ وصول کرنے کا انکشاف

datetime 11  جولائی  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کی جانب سے دبئی کی کمپنی سے تنخواہ وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔جے آئی ٹی کے مطابق نوازشریف اپریل 2014تک دبئی کی کمپنی سے 10ہزار درہم ماہانہ تنخواہ لیتے رہے ،نوازشریف نے 2009میں دبئی کا اقامہ حاصل کیاجو 2015تک کارآمد رہا ۔ایک موقر روزنامے کی رپورٹ کے مطابق اعتزا ز احسن کا کہنا ہے دبئی کی کمپنی سے تنخواہ لیکر چھپانے پر کرمنل کیس بنتا ہے ۔نوازشریف کو فوجداری مقدمے میں سزا ہوسکتی ہے۔

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا سابق صدر مشرف کے گھر کیا کام کیا کرتے تھے؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءسابق صدر مشرف سے ملاقات کے لئے انہیں خط لکھا کرتے تھے جبکہ مشرف کا سیکرٹری خط کے جواب میں لکھتا تھا کہ وہ ابھی مصروف ہیں جس کے بعد واجد ضیا ءمشرف کے گھر جا کر بیان لیتے تھے، پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سب سے اہم گواہ قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا ، مشرف کا بیان اس کے گھر پر لیا جا سکتا ہے تو قطر جاتے ہوئے ان کے پاؤں کی مہندی اترتی تھی۔پی آئی ڈی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ جے آئی ٹی کی رپورٹ نہیں پی ٹی آئی کی رپورٹ ہے ۔جے آئی ٹی ارکان کوکریمینل اورفوجداری مقدمات کاکوئی تجربہ نہیں۔ جے آئی ٹی کے 4ارکان کوقانونی معاملات کاکوئی تجربہ نہیں تھا۔ جے آئی ٹی رکن بلال رسول سابق گورنرپنجاب میاں محمداظہرکے بھانجے ہیںجبکہ عامرعزیزنے پرویزمشرف دورمیں جھوٹے ریفرنس بنائے۔جے آئی ٹی نے اپنے تحقیقات پر فوکس کرنے کی بجائے فالتو کاموں میں وقت ضائع کیا ہے۔ لگتاہے جے آئی ٹی والےغیرمتعلقہ کاموں میں وقت ضائع کرتے رہے۔مسلم لیگ (ن) کے قائدین کے فون ٹیپ کئے گئے ، فون ٹیپ کرناغیرقانونی عمل ہے،سیکشن 99 کے تحت کسی کافون ٹیپ نہیں کیاجاسکتا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں فالتو باتیں کی گئی ہیں اس رپورٹ میں طوطا مینا کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ گواہوں پر جے آئی ٹی ارکان کی جانب سے دباؤ ڈالا کیا ، طارق شفیع،جاویدکیانی کے ساتھ کیاسلوک کیاگیا؟کیا ان کومحمودمسعودچاہیے تھا۔ محترمہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی تھی مگر اس نے اپنا کام درست طریقے سے نہیں کیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…