ہفتہ‬‮ ، 18 جولائی‬‮ 2026 

پاناما کیس،معروف صحافی کے اہم جج سے رابطوں پر معاملہ بڑھ گیا،بڑا اقدام،حیرت انگیزانکشافات

datetime 10  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اْن سے دوبار رپورٹر نے رابطہ کیا میں نے کہا عدالت میں بولوں گا ٗ یہ براہ راست توہین عدالت کا معاملہ ہے ۔جسٹس عظمت نے کہا کہ آرڈر کچھ ہوتا ہے اور چھاپتے کچھ ہیں ۔جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی کے معاملات دیکھنے کا حکم کب اورکسے دیا؟

۔جسٹس عظمت شیخ نے کہا کہ احمد نورانی کی جرات کیسے ہوئی کہ اس نے ایک جج سے رابطہ کیا ۔ یہ بھی نوبت آئے گی کہ جج کو صحافی فون کریں گے ٗیہ کھلم کھلا عدالت کی توہین ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی ایک وزیراعظم نے جج سے رابطے کی کوشش کی جس کا نتیجہ سب کو پتہ ہے۔سپریم کورٹ نے پانا ما پیپرز کی تحقیقات کر نے والی جے آئی ٹی سے متعلق خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے انگریزی اخبار دی نیوز اور جنگ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن ، پبلشر میر جاوید رحمن اور دی نیوز کے رپورٹر احمد نورانی کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر تے ہوئے سات روز میں جواب طلب کرلیا ہے ۔ پیر کو کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ سماعت کے دور ان تین رکنی بینچ نے پاناما پیپرز کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی سے متعلق خبروں کا نوٹس لیا اور انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ اخبار کا مطالعہ کیا پھر عدالت میں موجود دی نیوز کے رپورٹر کو طلب کیا ۔بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز الاحسن نے رپورٹر سے کہا کہ ذرا دیکھیں جنگ گروپ نے کیسی رپورٹنگ کی ہے ؟مسلسل غلط رپورٹنگ کی جارہی ہے؟ جنگ گروپ کے پبلشر اور ایڈیٹر کون ہیں؟بعد ازاں عدالت نے میر شکیل الرحمان، میر جاوید رحمان اور دی نیوز کے رپورٹر احمد نورانی کونوٹس جاری کردیئے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے مسلسل غلط رپورٹنگ کی اشاعت دیکھی ہے جس نے خبر چھاپی وہ چھپ کر بیٹھا ہے۔عدالت نے کہاکہ ایک متفرق درخواست دائر کی گئی تھی کہ ویڈیو ریکارڈنگ نہ کی جائے ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اْن سے دوبار رپورٹر نے رابطہ کیا میں نے کہا عدالت میں بولوں گا ٗ یہ براہ راست توہین عدالت کا معاملہ ہے ۔جسٹس عظمت نے کہا کہ آرڈر کچھ ہوتا ہے اور چھاپتے کچھ ہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی کے معاملات دیکھنے کا حکم کب اورکسے دیا؟۔جسٹس عظمت شیخ نے کہا کہ احمد نورانی کی جرات کیسے ہوئی کہ اس نے ایک جج سے رابطہ کیا ۔ یہ بھی نوبت آئے گی کہ جج کو صحافی فون کریں گے ٗیہ کھلم کھلا عدالت کی توہین ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی ایک وزیراعظم نے جج سے رابطے کی کوشش کی جس کا نتیجہ سب کو پتہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)


یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…