جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

جعلی پیر کے ہاتھوں20افراد کا قتل ،ورثاء نے بالاخر بڑا قدم اُٹھاہی لیا

datetime 27  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) جعلی پیر کے ہاتھوں20افراد کے قتل اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف ورثاء کا احتجاجی مظاہرہ، نامز د ملزمان،ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کرنے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ۔ نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مقتولین کے ورثاء نے بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ سرگودھا میں جعلی پیر وحید معصوم نے 20افراد کو بے دردی سے قتل کر کے ان کی جان لے لی ،

جعلی پیر سرگودھا کے نواحی علاقے 95شمالی گاؤں کے دربار علی محمد گجر کا متولی تھا ۔موقع پر عوامی احتجاج پر جعلی پیر کو تین ساتھیوں سمیت موقع پر گرفتار کیا گیا ۔لیکن اس کے سہولت کار تا حال دندناتے پھررہے ہیں اور علاقے کے لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ورثاء کے مطابق جعلی پیر کی سرپرستی سابق ایم پی اے کامل گجر اور ڈی ایس پی شبیر گجر کررہے ہیں انہی کی مدعیت میں ایف آئی آر کٹوائی گئی ہے تاکہ کیس کو کمزور بنیادوں پر اپنے حق میں کیا جا سکے ۔ایف آئی آر میں بے گناہ ایک شخص کو بطور قاتل اور باقی تین افراد کو بطور گواہ اندراج کرایا گیا ہے اور اصل ذمہ داروں کو یکسر چھپایا گیا ہے ۔ان کا کہنا ہے انصاف کے حصول کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔سرگودھا میں پولیس اور اعلی افسران کودرخواستیں بھی دیں ہیں لیکن مایوس ہو کر اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پہنچے ہیں ۔انہوں نے صدر مملکت ،وزیر اعظم ،وزیرا علی پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین نواعیت کے واقعے کا نوٹس لیں اور ہمیں انصاف دلائیں ،جعلی پیر وحید سے علاقے کی عوام کی جان چھڑائی جائے ،انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بے گناہ افراد کے قاتلوں اور تمام سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لے کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…