اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

پاکستانیوں کے کام نرالے،حکومت کا کاروبار بھی اب بیگمات کے مشوروں سے چلتاہے۔۔! ہاں ! اس چیز پر ٹیکس میں نے اپنی بیگم کے کہنے کی وجہ سے نہیں لگایا،اسحاق ڈار کا حیرت انگیزاعتراف

datetime 26  مئی‬‮  2017 |

سلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میری بیگم نے مختلف ٹی وی چینلزپربچوں کی معصوم خواہشات دکھائیں جس میں بچے اپنے والدین سےبہت ہی معصومانہ اندازمیں چاکلیٹ خریدکردینے کی خواہش کررہے ہیں اوربچوں کی اس معصوم سی خواہش کودیکھ کرمیں نے چاکلیٹ پرٹیکس نہیں لگانے کافیصلہ کیاتاکہ چاکلیٹ مہنگی نہ ہوجائے ۔نجی ٹی وی پرگفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ

اسحاق ڈارنے کہاکہ چاکلیٹ پرٹیکس نہ لگانے کی وجہ میری بیگم ہیں جنہوں نے معصوم بچوں کی آوازمجھ تک پہنچائی اوراسی طرح سوشل میڈیاپرایک کلپ چل رہاتھاجوبہت زیادہ شیئرہورہاتھاوہ کلپ بھی مجھے بیگم نے بھیجااومجھے کہاکہ اس کلپ کومزید دیکھیں اورجب نے یہ کلپ دیکھاتوبچوں کی معصوم خواہشات دیکھ کرمیرابھی دل پسیج گیااورمیں نے چاکلیٹ پرٹیکس نافذنہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ اگرقوم کے بچے میری جان بھی مانگیں تووہ بھی پیش کردوں گا۔انہوں نے کہاکہ حکومت سب کچھ بچوں کے بہتراورشاندارمستقبل کےلئے تمام منصوبے بنارہی ہے اوران کوبروقت مکمل کررہی ہے تاکہ نئی نسل کوپریشانی نہ ہوبلکہ وہ بے خوف ہوکرزیادہ ترقی کریں ۔واضح رہے کہ جمعہ کے روزبجٹ میں وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی پنشن اور تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا، افواج پاکستان اور سرکاری ملازمین کے ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہوں میں ضم کر دیئے گئے،  ایڈہاک الاؤنسز ضم ہونے کے بعد تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا،  وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کم از کم تنخواہ بھی پندرہ ہزار روپے کرنے کا اعلان کر دیا۔ ہم نے ایک جامع بجٹ حکمت عملی تشکیل دی ہے جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2017-18ءکا بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چار سال کے دوران حاصل ہونے

والی اقتصادی کامیابیوں کو اگلے مالی سال میں مزید تقویت دینا ہماری اولین ترجیح ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف میں جی ڈی پی کی شرح میں 6 فیصد اضافہ، جی ڈی پی کے لحاظ سے سرمایہ کاری کی شرح میں 17 فیصد اضافہ، 1001 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی اخراجات، افراط زر کی شرح کو 6 فیصد سے کم رکھنا، بجٹ خسارہ کو جی ڈی پی کے 4.1 فیصد کی سطح پر لانا، جی ڈی پی کے لحاظ سے ٹیکس کی شرح 13.7 فیصد، زرمبادلہ کے ذخائر 4 ماہ کی درآمدات کے برابر لانا، خالص سرکاری قرضہ کی شرح کو جی ڈی پی کے لحاظ سے 60 فیصد تک لانا اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو جاری رکھنا شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…