بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ریاض سربراہ کانفرنس میں نوازشریف کو خطاب کا موقع نہ دیئے جانے پر تنازعہ بڑھ گیا،شدیدردعمل

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)سعودی عرب کے دارالحکومت ریا ض میں عرب اسلامک امریکہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کو تقریر کا موقع نہ ملنے اور دیگر مختلف تقاریب میں نظر اندازکیے جانے کے معاملے پر مختلف حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر اس حوالے سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ،پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے پاکستان کا وقار داؤ پر لگایا ۔

تفصیلات کے مطابق ریا ض میں ہونے والی عرب اسلامک امریکہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کو تقریر کا موقع نہ ملنے اور ذلت آمیز رویہ رکھنے پر مختلف حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ۔ٹی وی چینلز پر اس معاملے پر مختلف تبصرے کیے جاتے رہے اپوزیشن رہنماؤں نے بھی معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں میں پاکستان کا اہم کردار ہونے کے باوجود وزیراعظم نوازشریف کو ریاض میں ہونے والی اہم کانفرنس میں بولنے کا موقع نہیں دیا گیاجبکہ وزیراعظم نے اپنے طیارے میں کئی گھنٹے تک تقریر کی تیاری بھی کرتے رہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں بھارت کا تذکرہ کرنا تو گوارہ کیا لیکن دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پاکستان سے قریبی تعلقات ہیں،ٹرمپ نے اسلامی اتحاد کے بارے میں اہم بات کی اگر اسلامی اتحاد بن رہا ہے تو اچھی بات ہے ۔تحریک انصاف کے رہنماؤں کی اخلاقی حمایت سب کے سامنے ہے ۔دفاعی تجزیہ کار ائیر مارشل (ر) شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کو ریاض کانفرنس میں تقریر نہیں کرنے دی گئی چار ممالک کے مندوبین نے کانفرنس میں تقریر کی ۔

ایران کو مسلم ممالک کے اتحادمیں الگ کردیا گیا۔سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھاکہ ایک زیر تفتیش وزیراعظم پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکتا ۔پاکستان کو آگ میں دھکیلا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے ۔پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے پاکستان کا وقار داؤ پر لگایا ۔ مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ وزیر اعظم کو سربراہی کانفرنس میں تقریر نہیں کرنے دی گئی جس سے پاکستان کا وقار مجروح ہوا ہے ۔ ہمارے دور میں ہم نے 6 ،7 ماہ تک نیٹو سپلائی بند کیے رکھی اور پھر شکاگو میں نیٹو کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں میں نے اس وقت تک صدر زرداری کو روانہ نہیں ہونے دیا جب تک میں وہاں پر ان کی تقریر کنفرم نہیں کر لی ۔ امریکہ کو پاکستان کے نیٹو سپلائی بند کرنے پر بہت غصہ تھا اس کے باوجود صدر زرداری نے کانفرنس میں تقریر کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…