منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

ریاض سربراہ کانفرنس میں نوازشریف کو خطاب کا موقع نہ دیئے جانے پر تنازعہ بڑھ گیا،شدیدردعمل

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)سعودی عرب کے دارالحکومت ریا ض میں عرب اسلامک امریکہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کو تقریر کا موقع نہ ملنے اور دیگر مختلف تقاریب میں نظر اندازکیے جانے کے معاملے پر مختلف حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر اس حوالے سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ،پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے پاکستان کا وقار داؤ پر لگایا ۔

تفصیلات کے مطابق ریا ض میں ہونے والی عرب اسلامک امریکہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کو تقریر کا موقع نہ ملنے اور ذلت آمیز رویہ رکھنے پر مختلف حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ۔ٹی وی چینلز پر اس معاملے پر مختلف تبصرے کیے جاتے رہے اپوزیشن رہنماؤں نے بھی معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں میں پاکستان کا اہم کردار ہونے کے باوجود وزیراعظم نوازشریف کو ریاض میں ہونے والی اہم کانفرنس میں بولنے کا موقع نہیں دیا گیاجبکہ وزیراعظم نے اپنے طیارے میں کئی گھنٹے تک تقریر کی تیاری بھی کرتے رہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں بھارت کا تذکرہ کرنا تو گوارہ کیا لیکن دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پاکستان سے قریبی تعلقات ہیں،ٹرمپ نے اسلامی اتحاد کے بارے میں اہم بات کی اگر اسلامی اتحاد بن رہا ہے تو اچھی بات ہے ۔تحریک انصاف کے رہنماؤں کی اخلاقی حمایت سب کے سامنے ہے ۔دفاعی تجزیہ کار ائیر مارشل (ر) شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کو ریاض کانفرنس میں تقریر نہیں کرنے دی گئی چار ممالک کے مندوبین نے کانفرنس میں تقریر کی ۔

ایران کو مسلم ممالک کے اتحادمیں الگ کردیا گیا۔سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھاکہ ایک زیر تفتیش وزیراعظم پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکتا ۔پاکستان کو آگ میں دھکیلا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے ۔پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے پاکستان کا وقار داؤ پر لگایا ۔ مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ وزیر اعظم کو سربراہی کانفرنس میں تقریر نہیں کرنے دی گئی جس سے پاکستان کا وقار مجروح ہوا ہے ۔ ہمارے دور میں ہم نے 6 ،7 ماہ تک نیٹو سپلائی بند کیے رکھی اور پھر شکاگو میں نیٹو کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں میں نے اس وقت تک صدر زرداری کو روانہ نہیں ہونے دیا جب تک میں وہاں پر ان کی تقریر کنفرم نہیں کر لی ۔ امریکہ کو پاکستان کے نیٹو سپلائی بند کرنے پر بہت غصہ تھا اس کے باوجود صدر زرداری نے کانفرنس میں تقریر کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…